sexy urdu kahni
Tuesday, 4 December 2012
ٹھان لڑکی
یہ
کہانی بھی پہلے کی طرح سچی ہے تاہم اس کے کرداروں کے نام تبدیل کردیئے گئے
ہیں تاکہ کسی کی شناخت ظاہر نہ ہوسکے یہ کہانی میرے ایک ماتحت کولیگ مظفر
خان‘ اس کی بیوی روزینہ اور میری ہے اور اسے میں آپ لوگوں کے سامنے روزینہ
کی زبانی پیش کررہا ہوں یہ کہانی میں روزینہ کی مرضی سے لکھ رہا ہوں پہلے
تو روزینہ نے مجھے کہانی لکھنے سے منع کردیا لیکن بعد میں میری طرف سے
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط اور مسلسل اصرار پر اس نے اجازت دے دی اگر وہ
مجھے اجازت نہ دیتی تو میں یہ کہانی کبھی بھی نہ لکھتا کہانی لکھنے کی
اجازت دینے پر میں روزینہ خان کا بہت شکر گزار ہوں اور یہ کہانی بھی میں
اسی کے نام کررہا ہوں
میرا نام روزینہ خان ہے اور میری عمر 27 سال کے قریب ہوگی میرا تعلق کوئٹہ کے ایک پٹھان خاندان کے ساتھ ہے میری شادی 11 سال پہلے مظفر خان کے ساتھ ہوئی تھی جو اس وقت مجھ سے دس بارہ سال بڑا ہوں گے میں بہت زیادہ نہیں تو ایوریج خوب صورت ہوں جبکہ مظفر مجھ سے زیادہ ہینڈ سم اور بھر پور مرد تھے میں اس وقت بھی کافی حد تک پرکشش جسم کی مالک ہوں جبکہ مظفر مجھ سے بہت بڑی عمر کے معلوم ہوتے ہیں کوئی بھی ہم دونوں کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ان کی بیوی ہوں مظفر ایک سرکاری محکمہ میں ملازم ہیں اور ان کی پوسٹیں شروع سے ہی کوئٹہ میں رہی ہے دو سال پہلے ان کی لاہور پوسٹنگ ہوئی اس وقت سے ہم لوگ لاہور میں رہائش پذیر ہیں پٹھان خاندانوں کی روایات کے برعکس ہمارے 3 بچے ہیں (حالانکہ کہ پٹھانوں کے دس دس بارہ بارہ بچے ہوتے ہیں) شادی کے 2 سال میں امید سے ہوئی تو خاندان میں بہت سی خوشیاں منائی گئیں لیکن میری ازواجی زندگی پر اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوئے مظفر اب مجھ سے ہفتے میں ایک آدھ مرتبہ ہی ہم بستری کرتے تھے تین ماہ ایسے ہی گزر گئے اس کے بعد مظفر میرے پاس آنے سے بھی کتراتے میں کبھی کبھی دبے لفظوں میں ان سے ان کی بے رخی پر احتجاج کرتی تو کہتے تم امید سے ہو ایسا کرنے سے بچا ضائع ہوسکتا ہے کچھ مہینوں کی ہی تو بات ہے پھر ٹھیک ہوجائے گا آخر نو ماہ گزر گئے اور میں نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا سوا مہینہ گزارنے کے بعد مظفر پھر سے میرے ساتھ ہم بستری کرنے لگے مگر ان میں پہلے جیسا جوش نہیں تھا ان کی طرف سے جوش میں کمی کو میں بہت بری طرح محسوس کررہی تھی لیکن کچھ نہ کرسکی مزید کچھ عرصہ گزرا اور ہمارے ہاں دو مزید بچے پیدا ہوگئے جبکہ ہم میاں بیوی کے درمیان مزید دوریاں پیدا ہوگئیں جس کی وجہ سے میں گھر میں گھٹن سی محسوس کرنے لگی ایسے ہی ہماری شادی کو نو سال کا عرصہ گزر گیا اب مظفر عمر کے اس حصہ میں پہنچ گئے تھے جہاں وہ مہینے میں ایک آدھ بار ہی میرے پاس آیا کرتے تھے کئی بار وہ مجھے ادھورہ ہی چھوڑ کر خود مجھے سے الگ ہوجاتے تھے جس پر مجھے بہت ہی ڈپریشن ہوتی تھی میں گھٹ گھٹ کر جی رہی تھی ایک دن مظفر گھر آئے تو بہت پریشان تھے میں نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی ٹرانسفر لاہور ہوگئی ہے ان کے ساتھ میں بھی پریشان ہوگئی کہ پہلے تو مہینے میں ایک آدھ بار میرے قریب آجاتے تھے سیکس نہ ہی سہی کم از کم ان کا قرب تو مجھے نصیب تھا اب وہ لاہور چلے گئے تو میں مزید تنہائی کا شکار ہوجاﺅں گی مظفر نے اپنے کئی ہمدردوں اور دوستوں کو ٹرانسفر رکوانے کے لئے کہا مگر کچھ نہ بنا آخر ایک ہفتہ کے بعد مظفر ہم سب کو چھوڑ کر لاہور آگئے لیکن اگلے ہی مہینے وہ پھر کوئٹہ گئے اور مجھے بچوں سمیت لاہور لے آئے یہاں انہوں نے ایک مناسب سا گھر کرایہ پر لے لیا اور بچوں کو ایک سرکاری سکول میں داخل کرادیا یہاں بھی مظفر مسلسل کوئٹہ تبادلہ کرانے کے لئے کوشاں رہے مگر ناکامی ہوئی کوئٹہ میں جوائنٹ فیملی اور اپنا ذاتی گھر ہونے کی وجہ سے ہمارا گزر بسر بہت اچھا ہورہا تھا مگر لاہور میں آکر ہم مظفر کی محدود تنخواہ میں ہینڈ ٹو ماﺅتھ کی پوزیشن میں آگئے مہینے کے آخر میں گھر میں سب ختم ہوجاتا مظفر بہت پریشان رہتے
ایک دن مظفر نے دفتر سے گھر فون کیا اور کہا کہ روزینہ آج تیار ہوجانا شام کو ایک دوست کی دعوت ولیمہ پر جانا ہے میرے لئے یہ حیرت کی بات تھی کیونکہ آج سے پہلے کبھی بھی میں خاندان کے قریبی لوگوں کے علاوہ کسی کی شادی یا دوسرے فنکشن میں نہیں گئی تھی خیر میں نے ان سے کچھ نہ کہا اور ان کے گھر آنے سے پہلے خود تیار ہوگئی اور بچوں کو بھی تیار کردیا جبکہ مظفر کے کپڑے پریس کرکے رکھ دیئے مظفر نے آکر بتایا کہ صرف ہم دونوں چلیں گے بچے گھر پر رہیں گے دو تین گھنٹے تک ہم واپس آجائیں گے ہم بچوں کو گھر پر ہی چھوڑ کر رکشہ پر گلبر گ کے ایک شادی ہال میں چلے گئے جہاں بہت ہی گہما گہمی تھی مرد اور عورتیں ایک ہی ہال میں اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے مجھے یہاں بہت ہی شرم آرہی تھی خیر مظفر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے مجھ میں کچھ حوصلہ تھا میں ان کے ساتھ ہال میں داخل ہوگئی ہال کے دروازے پر مظفر نے اپنے دوست اور ان کی فیملی کے دیگر افراد کے ساتھ میرا تعارف کرایا اور ہم ہال میں ایک الگ میز پر بیٹھ گئے اس دوران کئی افراد مظفر کے ساتھ آکر ملے جبکہ میں منہ اپنی چادر کے ساتھ ڈھانپ کر خاموشی سے بیٹھی رہی کھانے کے دوران ایک شخص اچانک بغیر اجازت کے ہماری میز پر آبیٹھا مجھے اس کی یہ حرکت بہت ہی بری لگی لیکن وہ شخص آتے ہی مظفر کے ساتھ فرینک ہوگیا اور باتیں کرنے لگا میں نے کھانا چھوڑ کر منہ دوبارہ ڈھانپ لیا باتوں باتوں میں مظفر نے مجھے مخاطب کرکے کہا روزینہ یہ میرے باس شاکر صاحب ہیں اور شاکر صاحب یہ میری بیوی روزینہ
”ہیلو کیا حال چال ہیں“ اب وہ شخص مجھ سے براہ راست مخاطب تھا
یہ میری زندگی میں پہلی بار کسی غیر محرم نے مجھے براہ راست میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مخاطب کیا تھا میں اس وقت شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ان کی طرف سے حال چال پوچھنے پر میں صرف سر ہی ہلا سکی
” میں ان کا باس واس نہیں صرف کولیگ ہوںمظفر تو بس ایسے ہی ذرے کو پہاڑ بنا دیتے ہیں “ وہ شخص ابھی تک مجھے گھورے جارہا تھا
میں ابھی بھی نظریں نیچی کئے خاموش بیٹھی ہوئی تھی اس کے بعد وہ شخص مظفر کے ساتھ باتیں کرنے لگا اور دس پندرہ منٹ کے بعد اٹھ کر چلا گیا آخر دو تین گھنٹے کے بعد فنکشن ختم ہوگیا اور ہم میزبان سے اجازت لے کر ہال سے باہر نکل آئے اور سڑک پر رکشہ کے انتظار میں کھڑے ہوگئے چند لمحوں کے بعد ہی ایک کار ہمارے قریب آکر رکی اس میں مظفر کا باس شاکر ہی بیٹھ تھا اس نے کہا مظفر صاحب کدھر جانا ہے مظفر نے اس سے کہا کہ سر ہم کو چوبرجی کی طرف جانا ہے تو اس شخص نے کار کا اگلا دروازہ کھولتے ہوئے کہا کہ آئےے میں آپ کو ڈراپ کردوں گا مظفر نے پہلے تو انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں سر آپ خواہ مخواہ تکلیف کررہے ہیں ہم رکشہ پر چلے جائیں گے مگر اس شخص نے کہا تکلیف کی کوئی بات نہیں میں بھی ایک کام کے سلسلہ میں ادھر ہی جارہا ہوں جس پر مظفر نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا میں ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی اور مظفر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے راستے میں مظفر اور شاکر دونوں باتیں کرتے رہے میں ان کی باتوں سے بے نیاز چادر سے منہ ڈھانپے باہر دیکھ رہی تھی چوبرجی پہنچ کر اس شخص نے ہم کو اتار دیا اور جاتے ہوئے مظفر سے کہنے لگا یار مظفر کبھی بھابھی کو لے کر ہمارے گھر بھی آﺅ جس پر مظفر نے کہا ٹھیک ہے سر کبھی آﺅں گا مگر آپ یہاں تک آگئے ہیں اسی گلی میں ہمارا گھر ہے چائے تو پی کر جائیں مگر وہ ان کی بات سنی ان سنی کرکے چلا گیا
میں نے گھر آکر مظفر سے کہا کہ کیا ضرورت تھی مجھے اس فنکشن میں لے کر جانے کی اور پھر آپ ایک اجنبی کے ساتھ گاڑی میں مجھے لے کر بیٹھ گئے مگر مظفر نے کہا کہ وہ شخص اجنبی نہیں تھا میرا باس تھا جبکہ اس فنکشن میں سب لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ آئے ہوئے تھے اور میرے دوست نے مجھے بھی فیملی کے ساتھ آنے کو کہا تھا میں اکیلا جاتا تو سب مجھ سے ناراض ہوتے کہ فیملی کے ساتھ کیوں نہیں آیا
چند روز گزرے کہ ایک روز مظفررات کو لیٹ گھر آئے تو ان کے ساتھ شاکر نامی شخص بھی تھا مظفر ان کے ساتھ بیٹھک میں بیٹھ گیا اور مجھے چائے لانے کو کہا اس وقت تینوں بچے سو چکے تھے میں نے چائے تیار کی اور بیٹھک کے اندرونی دروازے سے مظفر کو آواز دی کہ چائے لے لیں مظفر نے مجھے کہا کہ اندر ہی لے آﺅ مجھے اس وقت بہت حیرت ہوئی کہ کبھی بھی پہلے میں بیٹھک میں کسی مہمان کی موجودگی میں نہیں گئی تھی چائے وغیرہ یا تو بچے لے جاتے یا مظفر خود پکڑ لیتے تھے میں اس وقت صرف دوپٹہ لئے ہوئے تھی خیر میں ان کے حکم پر اپنا دوپٹہ درست کرکے چائے اندر ہی لے گئی اور چائے رکھ کر واپس آگئی مجھے محسوس ہوا کہ شاکر مسلسل میرے جسم کا جائزہ لے رہا ہے میں چائے رکھ کر فوراً ہی واپس آگئی دونوں بیٹھک میں کافی دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے دس پندرہ منٹ کے بعد مظفر مہمان کو الوداع کرکے کمرے میں آگئے میں ان پر برس پڑی کہ آپ نے مجھے کیوں اندر بلایا تو کہنے لگے یہ لاہور ہے اور اگر یہاں ہمیں رہنا ہے تو تمام لوگوں کی طرح ہی رہنا ہوگا ورنہ تمام لوگ ہم سے ملنا جلنا چھوڑ دیں گے کوئٹہ کی طرح لاہور میں نہیں رہا جا سکتا ہاں شاکر صاحب مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دے گئے ہیں بتاﺅ کس دن چلیں میں نے کہا کہ مجھے نہیں جانا کسی شاکر واکر کے گھر لیکن مظفر نے خود ہی کہا کہ اگلے اتوار کو چلیں گے اور تم بھی میرے ساتھ چلو گی میں خاموش رہی
اتوار کے روز مظفر نے مجھے صبح دس بجے کہا کہ تیار ہوجاﺅ آج ہمیں دوپہر کا کھانا شاکر صاحب کے ہاں کھانا ہے میں نے انکار کیا تو کہنے لگے مجھے نہیں معلوم تم جلدی سے تیار ہوجاﺅ اور میرے کپڑے بھی پریس کردو میں نہ چاہتے ہوئے بھی کپڑے چینج کرکے ان کے ساتھ چل دی ہم رکشہ لے کر شاکر صاحب کے گھر چلے گئے ان کے گھر گئے تو ایک نوکر نے دروازہ کھولا اور ہمیں ایک کمرے میں بٹھا دیا اور چائے کے ساتھ بسکٹ دیئے اس نے بتایا کہ شاکر صاحب تو ابھی گھر سے باہر گئے ہیں تھوڑی دیر تک آجائیں گے تھوڑی دیر کے بعد شاکر صاحب بھی گھر آگئے اور ساتھ میں بڑے بڑے شاپروں میں کھانا لے آئے شاپر نوکر کو پکڑا کر خود ہمارے پاس بیٹھ گئے میں یہ بات نوٹ کررہی تھی کہ شاکر بار بار میری طرف دیکھتا اور میرے جسم کا جائزہ لیتا تھا میں خاموشی سے بیٹھی رہی باتوں باتوں میں شاکر نے کہا کہ بھابھی لگتا ہے آپ یہاں ایزی فیل نہیں کررہیں میں نے انکار میں سر ہلایا تو کہنے لگا کہ پھر آپ ابھی تک خاموش بیٹھی ہوئی ہیں میرے گھر میں کوئی خاتون نہیں ہے اس لئے مجھے ہی آپ کو کمپنی دینا ہوگی آپ اپنے ہی گھر میں بیٹھی ہیں
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں میں آپ کی باتیں انجوائے کررہی ہوں “
آپ کو ہمارے دفتر کی باتوں سے کون سی انجوائے منٹ مل رہی ہے
بس ٹھیک ہے آپ باتیں کیجئے
اچھا آپ بتائیں لاہور آکر کیسا فیل کررہی ہیں
ٹھیک
بچوں کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے
ٹھیک ہی ہے
ویسے پہلے پہل مظفر تو بہت تنگ تھا لیکن اب کافی حد تک ایڈجسٹ کرچکا ہے
”نہیں سر ایسی بات نہیں مجبوری ہے ورنہ میرا بس چلے تو ایک منٹ بھی لاہور میں نہ ٹھہروں “اس بار میری بجائے مظفر نے جواب دیا
یار نوکری میں تو ایسا ہوتا ہے
ہاں سر مگر آپ کچھ کیجئے نہ
میں کیا کرسکتا ہوں
سر آپ چاہیں تو میری ٹرانسفر دوبارہ کوئٹہ ہوسکتی ہے
مظفر تم کو معلوم ہے کہ پالیسی کتنی سخت ہوگئی ہے میں فی الحال کچھ بھی نہیں کرسکتا ہاں اگر تم کہوں تو میں کراچی یا اسلام آباد کے لئے ٹرائی کرسکتا ہوں
سر نہیں ابھی بہت مشکل سے یہاں تھوڑا سا دل لگا ہے وہاں پھر جاکر نئے سرے سے شروع کرنا پڑے گا
ہاں یہ تو ہے
لیکن سر آپ کوشش ضرور کیجئے گا
ٹھیک ہے
اب پھر شاکر نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بھابھی مظفر آپ کو آﺅٹنگ پر بھی لے کر گیا ہے یا نہیں
نہیں میں نے خود ہی کبھی ان سے نہیں کہا اور ویسے بھی میری عادت ہی ایسی ہے کہ کم ہی گھر سے نکلتی ہوں کوئٹہ میں تو اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھی جانے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا تھا اور بڑوں سے اجازت لینا پڑتی تھی یہاں تو پھر بھی کبھی کبھی مظفر مجھے کہیں نہ کہیں لے جاتے ہیں میں اب کافی حد تک خود کو ایزی فیل کررہی تھی لیکن شاکر کی نظریں اب بھی مجھے میرے جسم کے اندر جانکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی
لیکن بھابھی یہ لاہور ہے اور یہاں خود کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے یہاں کے ماحول کے حساب سے رہنا پڑے گا
میں پھر خاموش ہوگئی
کھانا کے دوران مظفر اور شاکر باتیں کرتے رہے اور میں خاموشی سے بیٹھی تھوڑا بہت کھاتی رہی کھانا بہت لذیز تھا کھانے کے بعد ہم پھر کمرے میں آبیٹھے جہاں آکر شاکر نے کہا کہ اب کھانا تو کھا لیا ہے آج چائے بھابھی کے ہاتھ کی پیئں گے
مظفر نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ روزینہ تم چائے بنا لاﺅ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور شاکر میری رہنمائی کرتے ہوئے کچن تک لے آیا اور مجھے دودھ چائے اور چینی دے کر خود کمرے میں جابیٹھا میں چائے لے کر کمرے میں گئی تو دونوں قہقہے لگا رہے تھے
” واہ چائے تو بہت مزیدار ہے “شاکر نے پہلا گھونٹ لیتے ہی بول دیا
”ہاں بھئی ہماری بیگم کھانا بھی بہت اچھا بناتی ہیں لیکن ہمارے روائتی کھانے شائد آپ پنجابی لوگ پسند نہ کریں “مظفر نے جواب دیا
نہیں یار تم نے کبھی دعوت ہی نہیں دی ہم کیسے کھا سکتے ہیں بھابھی کے ہاتھ کے پکے کھانے ویسے مجھے افغانی کھانے بہت پسند ہیں
نہیں سر آپ جب دل چاہے آجائیں
ٹھیک ہے کسی دن پروگرام بنائیں گے
ہاں ٹھیک ہے لیکن سر آنے سے ایک دو دن پہلے بتا دیجئے گا
ٹھیک ہے
مظفر اور شاکر دونوں کافی دیر تک باتیں کرتے رہے اس دوران شاکر کبھی کبھی مجھے بھی مخاطب کرلیتا جبکہ میں صرف ہوں ہاں میں جواب دیتی جبکہ شاکر بار بار مجھے بار بار گھور رہا تھا باتوں باتوں میں شام کے چار بج گئے اب مظفر نے شاکر سے اجازت لی تو شاکر اندر سے دو پیکٹ اٹھا کر لایا اور مجھے تھما دئےے اور کہا کہ بھابھی یہ میری طرف سے آپ کے لئے گفٹ ہیں آپ پہلی بار میرے گھر آئی ہیں جلدی میں بازار سے صرف یہی لا سکا ہوں اور مظفر یہ تمہارے لئے ایک پیکٹ اس نے مظفر کے ہاتھ میں دے دیا
”سر اس کی کیا ضرورت تھی “مظفر نے پیکٹ پکڑتے ہوئے کہا
نہیں نہیں یار آپ لوگ پہلی بار میرے گھر آئے ہو پھر معلوم نہیں زندگی کہاں لے جائے
اس کے بعد شاکر ہم کو گھر تک چھوڑنے آیا اور گھر کے دورازے تک چھوڑ کر خود چلا گیا
گھر آکر میں نے مظفر سے کہا کہ میں آئندہ کبھی کسی کے گھر نہیں جاﺅں گی تم نے دیکھا تمہارا باس مجھے کس طرح گھور رہا تھا لیکن مظفر نے کہا کہ شاکر ایسا آدمی نہیں ہے بہت اچھا ہے دفتر میں مجھے کبھی بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں اس کا ماتحت ہوں اور تم کو خواہ مخواہ ہی ایسا محسوس ہورہا ہے اس کے بعد مظفر نے تینوں پیکٹ خود ہی کھول دیئے دوپیکٹس میں ہم دونوں کے سوٹ تھے جبکہ ایک میں میرے لئے جیولری تھی کافی مہنگی معلوم ہوتی تھی مظفر نے دیکھ کر کپڑوں اور جیولری کی تعریف شروع کردی اور مجھ سے کہا کہ کس دن شاکر صاحب کو اپنے گھر کھانے کو مدعو کروں میں نے کہا کہ جس دن مرضی کرلیں مگر میں ان کے سامنے نہیں جاﺅں گی مظفر نے جواب دیا نہ جانا تمہاری مرضی اگلے اتو ار کو ٹھیک رہے گا میں نے کہا ٹھیک ہے مظفر جمعہ کے دن گوشت اور کچھ فروٹ وغیرہ گھر لے آئے اور کہا کہ پرسوں شاکر صاحب آرہے ہیں اور تم اچھا سا کھانا پکا دینا
اتوار کے روز صبح ہی میں نے بھنہ گوشت‘ روسٹ اور شوربہ( افغانی روائتی کھانے) تیار کرنا شروع کردیئے بارہ بجے کے قریب شاکر ہمارے گھر آدھمکا میں روائتی افغانی چائے (قہوہ) ان کے لئے تیار کرکے اپنے بڑے بیٹے کے ہاتھ بیٹھک میں بھجوادیا اس پینے کے بعد کھانا بھی بھجوادیا شاکر صاحب تین بجے کے قریب گھر سے چلے گئے اس کے بعد مظفر اندر آئے اور کہنے لگے کہ تم بیٹھک میں کیوں نہیں آئی میں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی آپ کو بتادیا تھا کہ میں کسی کے سامنے نہیں جاﺅں گی کہنے لگے شاکر صاحب نے بار بار پوچھا کہ بھابھی کیوں نہیں آئیں اور کافی ناراض بھی ہورہے تھے میں خاموش رہی
اس کے بعد روز ہی مظفر گھر آکر شاکر صاحب کے گھن ہی گاتے رہتے اور روٹین میں دن گزرتے گئے تقریباً ایک ماہ بعد مظفر نے مجھے کہا کہ آج شاکر صاحب کے ہاں کچھ مہمان آنے والے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ان کے لئے افغانی کھانے بنوانا چاہتے ہیں میں تم کو اگلے ہفتہ کو ان کے گھر لے چلوں گا میں نے انکار کیا تو کہنے لگے جیسا میں کہتا ہوں کرو شاکر صاحب کے ساتھ میرا تعلق بھائیوں کی طرح ہوچکا ہے اور تم بھی ا ن کو اجنبی نہ سمجھا کرو خیر میں ہفتہ کے روز صبح مظفر کے ساتھ شاکر کے گھر چلی گئی شاکر گھر میں ہی موجود تھا مجھے کچن میں چیزیں دے کر خود دونوں گاڑی پر بیٹھ کر دفتر چلے گئے دوپہر کے وقت مظفر کا فون آیا انہوں نے میرا حال چال پوچھا اور مجھے افغانی ڈشز اچھی طرح تیار کرنے کی ہدایت کرنے لگے ڈیڑھ بجے کے قریب دروازے پر بیل ہوئی نوکر نے دروازہ کھولا اور شاکر آگئے وہ سیدھا کچن میں ہی آگئے اور مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے کہ بھابھی جیسا کھانا آپ نے گھر میں کھلایا تھا ویسا ہی ہونا چاہئے میں ان کے پیچھے دیکھنے لگی کہ مظفر بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گے مگر وہ اکیلا ہی تھا میں نے ان سے مظفر کے بارے میں استفسار کیا تو کہنے لگا کہ میں تو کسی دفتر ی کام کے سلسلہ میں ادھر آیا تھا سوچا گھر چکر لگا لوں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے معلوم کرلوں مظفر ابھی دفتر میں ہے مجھے بھی جانا ہے شام کو اکٹھے ہی آجائیں گے اور ہاں بھابھی مجھے بہت سخت بھوک لگی ہے اگر کوئی ڈش تیار ہوگئی ہو تو مجھے تھوڑا سا کھانا دے دیں یہ کہہ کر شاکر نے نوکر کو بازار سے کولڈ ڈرنک لانے کے لئے بھیج دیا اور خود کچن کے دروازے پر ہی کھڑا ہوگیا مجھے بہت عجیب سا محسوس ہورہا تھا وہ مسلسل مجھے گھور رہا تھا جس کی وجہ سے میرے ہاتھ کانپنے لگے تھے اس دوران میرے ہاتھ سے پلیٹ بھی گرنے لگی لیکن میں سنبھل گئی میں نے پلیٹ میں روسٹ کا ایک پیس رکھ کر ان کو دیا تو یہیں پر ہی کھڑے ہوکر کھانے لگے
”واہ بھئی واہ بھابھی آپ نے تو کمال کردیا اتنا لذیز کھانا کمال ہے بھابھی آپ کے ہاتھ میں تو جادو ہے جادوآپ جتنی خود خوب صورت ہیں اتنے اچھے کھانے بھی تیار کرتی ہیں “
میں پہلی بار کسی کے منہ سے اپنی تعریف سن رہی تھی اور مجھے عجیب سا لگ رہا تھا اس سے پہلے مظفر نے بھی میری کبھی تعریف نہیں کی تھی
شاکر نے پھر مجھے مخاطب کرکے کہا کہ بھابھی آپ کو میری طرف سے دیا ہوا سوٹ اور جیولری کیسی لگی میرے خیال سے وہ آپ پر بہت سوٹ کرے گی ویسے آپ جیولری کے بغیر بھی بہت خوب صورت ہیں لیکن وہ جیولری آپ کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دے گی
میں مسلسل خاموش تھی اور اپنی تعریف سن کر میرے ہاتھ پاﺅں سن ہورہے تھی کوئی اجنبی پہلی بار اس طرح میرے ساتھ مخاطب تھا
تھوڑی دیر کے بعد شاکر چلے گئے اور شام کو مظفر کے ساتھ گھر آگیا ہم دونوں کو شاکر کا نوکر گھر ڈراپ کرکے واپس آگیا گھر جاکر میں نے سوچا کہ مظفر کو سب کچھ بتادوں مگر معلوم نہیں کیوں خاموش رہی
اگلے روز شاکر کا فون آیا اور کچھ باتیں کرنے کے بعد مظفر نے فون مجھے دے دیا دوسری طرف شاکر تھا
بھابھی آپ نے تو کمال کردیا میں نے تو کل ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کے ہاتھ میں جادو ہے میرے دوست یوکے سے آئے ہوئے تھے بہت تعریف کررہے تھے میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتی رہی
اب اکثر شاکر کا فون آجاتا اور مظفر مجھے فون تھما دیتا میں مجبوراً تھوڑی بہت بات کرکے فون بند کردیتی کئی بار وہ خود بھی مظفر کے ساتھ ہمارے گھر آجاتا مگر میں کوشش کرتی کہ اس کے سامنے نہ ہی جاﺅں مگر مظفر مجھے مجبور کرتا تو میں چلی جاتی و ہ اب بھی میری طرف گھورتا اور مجھے محسوس ہوتا کہ اس کی نظر بہت گندی ہے
ایک روز رات کو مظفر اور میں لیٹے ہوئے تھے مظفر نے مجھے کہا کہ روزینہ شاکر صاحب میری کوئٹہ ٹرانسفر کراسکتے ہیں میں خاموش رہی انہوں نے پھر مجھے مخاطب کیا سمجھ نہیں آتا ان کو کیسے قائل کروں روزینہ تم یہ کام کرسکتی ہو
تم کیوں نہیں شاکر صاحب کو کہتی
میں ! میں کیسے کہہ سکتی ہوں
تم کہہ سکتی ہو اور وہ تمہاری بات نہیں ٹالے
آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں
مظفر نے یہ کہتے ہوئے اپنے موبائل سے شاکرکو فون ملایا اورسپیکر آن کرکے مجھے تھما دیا اور کہنے لگے کہ ان سے ابھی صرف حال چال ہی پوچھنا
میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی فون کان کو لگا لیا تیسری یا چوتھی بیل پر شاکر نے فون اٹھا
ہیلو کیا حال ہے مظفر
میں روزینہ بول رہی ہوں
جی کیا حال ہے بھابھی
ٹھیک ہوں
کیسے مجھے فون کرلیا
بس ایسے ہی
کیا مظفر سو رہے ہیں
نہیں
اچھا باہر گئے ہوں گے تو آپ نے سوچا کہ مجھے فون کرلیں مہربانی میں بھی کافی دن سے چاہ رہا تھا کہ کبھی اکیلے میں بات ہو مگر موقع ہی نہیں مل رہا تھا
کیا کہنا تھا آپ نے
بس آپ کی تعریف کرنے کو دل چاہتا تھا اور مظفر کے سامنے میں کرنا نہیں چاہتا تھا معلوم نہیں کیا سوچے گا
(یہ سب باتیں مظفر بھی سن رہا تھا )
کس بات کی تعریف
آپ تو ساری کی ساری تعریف کے لائق ہیں کہاں سے شروع کروں مظفر کو تو آپ کی قدر ہی نہیں ہوگی جتنی آپ خوب صورت ہیں اور ایک بات میں آپ سے مزید پوچھنا چاہوں گا اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو
کیا ! پوچھیں
مظفر تو آپ سے عمر میں بہت بڑا لگتا ہے اور اس کی صحت بھی اتنی اچھی نہیں ہے مگر آپ تو ابھی تک جوان ہیں کیا مظفر آپ کو سیکس میں مطمیئن کردیتا ہے
میں شاکر سے اس بات کی توقع نہیں کررہا تھا فوراً فون بند کردیا اور سوالیہ نظروں سے مظفر کی طرف دیکھنے لگی جو مجھ سے نظریں چرا رہا تھا تھوڑی دیر بعد مجھ سے بولا تم دوبارہ شاکر صاحب کو فون کرو اور ان کے ساتھ ایسی ہی باتیں کرو جیسی وہ کررہے ہیں یہ سالا ایسے ہی کام کرے گا مجھے پہلے ہی پتہ تھا
نہیں میں نہیں کرسکتی یہ بے غیرتی
نہیں تم کرو صرف فون ہی تو کرنا ہے
نہیں مظفر میں نہیں کرسکتی
تم کو کرنا ہی ہوگا (اب کی بار مظفر کا لہجہ سخت اور انداز حکمیہ تھا)
میں نے فون دوبارہ ملایا اور اگلی طرف سے فون اٹھاتے ہی کہا کٹ گیا تھا
مجھے معلوم تھا آپ دوبارہ کریں گی
جی
میں نے کچھ آپ سے پوچھا تھا
کیا
یہی کہ مظفر آپ کی سکیس کی ضرورت پوری کرتا ہے
جی ایسی بات نہیں
مجھے معلوم ہے یہ بوڑھا تم کو کیا پورا کرتا ہوگا روزینہ جس دن سے تم کو دیکھا ہے دل چاہتا ہے تم کو جی بھر کے پیار کروں میں نے تمہارے جیسی خوب صورت لڑکی آج تک نہیں دیکھی
جی دیکھیں آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں
تو کیسی باتیں کروں آپ کوئی اور بات کرلیں میرے ذہن میں تو جو بات ہوگی میں تو وہی کروں گا
جی میں نے تو اس لئے فون کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے کہ مظفر کی ٹرانسفر کرادوں
جی
مجھے معلوم ہے لیکن میں جان بوجھ کر ایسا نہیں ہونے دے رہا میں تم کو خود سے دور نہیں ہونے دینا چاہتا
جی ہمیں بہت پرابلم ہے آپ کو معلوم نہیں ہے
مجھے معلوم ہے میں ایک شرط پر ایسا کرسکتا ہوں
کیا شرط
تم کو اکیلے میرے گھر آنا ہوگا
جی میں کیسے آسکتی ہوں اگر مظفر کو معلوم ہوگیا تو وہ مجھے جان سے مار ڈالیں گے
نہیں مارے جیسے مجھے فون کررہی ہیں ویسے خود آجائیں اسے کیسے معلوم ہوگا کسی دن صبح ہی آجائیں مظفر آفس گیا ہوگا اور اس کے واپس گھر جانے سے پہلے میں آپ کو واپس ڈراپ کردوں گا اور آپ بچوں کو کہہ دیں کہ آپ بازار گئی تھیں
میں خاموش ہوگئی
ٹھیک ہے سوچ کر کل بتا دیں میں آپ کے فون کا انتظار کروں گا (یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا )
میں نے فون مظفر کو پکڑا کر تلخی بھرے لہجے میں اس سے کہا کہ دیکھ لیا کس ذہن کا بندہ ہے اور تم کہتے ہو کہ ایسا ویسا بندہ نہیں ہے اور میرے ساتھ اس کا تعلق بھائیوں جیسا ہے
مظفر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے تم کل صبح ہی اس کے گھر چلی جاﺅ
کیا کہا آپ کا دماغ تو پاگل نہیں ہوگیا ( میں نے کبھی بھی اس سے پہلے مظفر کے ساتھ اس طرح بدتمیزی کے ساتھ بات نہیں کی تھی مگر آج ان کی بات سن کر نہ جانے کیسے میرے منہ سے یہ الفاظ نکل آئے)
کچھ بھی نہیں ہوگا ایک بار میری ٹرانسفر ہوجائے
مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا
پلیز روزینہ تم کو یہ کام کرنا ہی ہوگا میرے لئے ‘ بچوں کے لئے ‘ تم کو معلوم ہے یہاں گزارہ کرنا مشکل ہورہا ہے
نہیں مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا
روزینہ پلیز
میں خاموش ہوگئی اور سوچنے لگی کہ مظفر کو کیا ہوگیا ہے اور وہ مجھے کس کام کے لئے کہہ رہے ہیں ۔
چند منٹ کے بعد مظفر کہنے لگے کہ میں شاکر کو فون ملا رہا ہوں تم اس سے کہو کہ میں کل صبح آپ کے گھر آنا چاہتی ہوں میں نے ناں کہی لیکن مظفر نے یہ کہتے ہوئے فون ملا کر میرے ہاتھ میں تھما دیا کہ کچھ نہیں ہوتا
اگلی طرف سے فوراً ہی فون اٹھا لیا گیا
جی روزینہ
شاکر صاحب میں کل صبح آپ کے گھر آنا چاہتی ہوں
گڈ ویری گڈ میں آپ کو صبح ساڑھے نو بجے اس وقت آپ کے گھر سے ہی پک کرلوں گا جب مظفر دفتر کے لئے نکل جائے گا اور آپ کے بچے سکول جاچکے ہوں گے یہ کہتے ہی شاکر نے فون بند کردیا
میں نے فون مظفر کو دیا اور اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مظفر بھی شرمندہ سے تھے انہوں نے نظریں چراتے ہوئے کہا روزینہ میری خاطر ایک بار صرف ایک بار مجھے معلوم ہے کہ یہ کام ٹھیک نہیں ہے اگر کسی کو اس کی بھنک بھی پڑ گئی تو ہم جی نہیں سکیں گے مگر صرف ایک بار
میں خاموش رہی اور دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گئی ساری رات مجھے نیند نہیں آئی میں جانے کن سوچوں میں گم رہی مظفر کی کروٹوں سے لگا کہ وہ بھی نہیں سو سکا صبح سات بجے میں اٹھی تو ساتھ ہی مظفر بھی اٹھ گئے ایک بار پھر کہنے لگے پلیز روزینہ ایک بار کسی طرح ٹرانسفر کوئٹہ ہونی چاہئے اس کے لئے تم قربانی دو میں خاموش رہی اور باتھ روم میں چلی گئی واپس آئی تو مظفر گھر سے جاچکے تھے میں نے بچوں کو ناشتہ دیا اور ان کو سکول بھیج کر کپڑے پہننے لگی ٹھیک ساڑھے نو بجے دروازے پر بیل ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے شاکر تھا ۔
ہیلو کیا حال ہیں کیا آپ تیار ہیں
جی
آجائیں گاڑی میں گاڑی میں بیٹھا آپ کا انتظار کررہا ہوں
میں نے گھر کو لاک کیا اور باہر نکلنے لگی باہر جاتے ہوئے میں پاﺅں سو سو من کے ہوگئے مجھ سے قدم نہیں اٹھایا جارہا تھا میں آہستہ آہستہ چلی اور گاڑی تک پہنچی تو شاکر نے گاڑی کا اگلا دروازہ کھول دیا میں اندر بیٹھ گئی اور شاکر نے گاڑی چلا دی میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور دل میں جانے کون کون سی سوچیں آرہی تھیں راستے میں ایک دوبار شاکر نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن میں خاموش رہی تو شاکر نے بھی خاموشی سے گاڑی چلانا شروع کردی گھر پہنچ کر شاکر نے دروازے پر گاڑی روکی اور مجھے کہنے لگا آج میں نے نوکر کو چھٹی دے دی ہے دروازہ خود ہی کھولنا پڑے گا دروازہ کھول کر پھر گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی اندر لے آیا پھر اتر کر گیٹ بند کرنے چلا گیا میں ابھی تک گاڑی میں ہی بیٹھی ہوئی تھی مجھ سے گاڑی سے اترنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی آج زندگی میں پہلی بار کسی نامحرم کے ساتھ میں گاڑی میں بیٹھ کر اکیلی آئی تھی اور آئی بھی کس کام کے لئے تھی ۔
”اتر آئیں روزینہ گھر میں کوئی نہیں ہے “میں شاکر کی آواز پر بھی گاڑی میں ہی بیٹھی رہی تو شاکر نے خود آکر دروازہ کھولا اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اندر لے گیا میں صوفے پر بیٹھ گئی تو میرے سامنے بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا
مجھے معلوم تھا کہ تم ضرور آﺅ گی اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ مظفر کو بھی تمہارے میرے گھر آنے کی خبر ہے لیکن تم بے فکر رہو میں اس بات کا اس سے بھی ذکر نہیں کروں گا
تم واقع ہی بہت خوب صورت ہے اور تمہارے مقابلے میں مظفر کچھ بھی نہیں ہے یہ تو لنگور کو کجھور ملنے والی بات ہے
میں مسلسل خاموش تھی اور میری ٹانگیں مسلسل کام رہی تھیں میری خاموشی پر وہ سامنے سے اٹھ کر میرے قریب آبیٹھا اور اس نے میرے گلے میں ہاتھا ڈال لئے اس کے بعد میری چادر اتار کر صوفے پر پھینک دی اور میری گردن میں پیچھے سے ہاتھ ڈال کر مجھے میرے ہونٹوں سے کس کرنے لگا مجھے بہت عجیب سا محسوس ہورہا تھا تھوڑی دیر کے بعد میں نے سوچا کہ یہاں آج میں اپنی عزت تو ہر صورت گنوا ہی دوں گی کیوں نہ خود بھی مزہ لے لوں اب میں نے بھی شاکر کا ساتھ دینا شروع کردیا آہستہ آہستہ میں بہت گرم ہوگئی شاکر نے کسنگ بند کی اور مجھے لے کر دوسرے کمرے میں چلا آیا اس نے آتے ہی میری قمیص اتارنا شروع کردی پھر بریزیئر بھی اتار پھینکا اور للچائی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا واہ کیا بات ہے اس کے بعد اس نے میری شلوار بھی اتار دی اور نیچے پہنی انگی بھی پھر اپنی شرٹ اور پھر پینٹ بھی اتار دی اب وہ صرف انڈر ویئر میں ہی تھا اس کا ہتھیار انڈر ویئر کے اندر سے ہی دکھائی دے رہا تھا اس نے مجھے بیڈ پر لٹا لیا اور مجھے ہونٹوں پر کسنگ شروع کردی میں اس کا بھر پور انداز میں ساتھ دے رہی تھی اس کے بعد اس نے میرے کانوں پر کسنگ شروع کردی مجھے عجیب سا مزہ آرہا تھا مظفر نے آج تک مجھے ہونٹوں کے علاوہ کہیں بھی کسنگ نہیں کی تھی کانوں کے بعد اس نے گردن پھر چھاتی پر میرے مموں کو چوسنا شروع کردیا مزے کے ساتھ میرے منہ آہیں نکلنے لگیں میں ایک عجیب سے نشے سے دوچار تھی اس کے بعد اس نے میری پیٹ پر کسنگ شروع کردی اورہوتے ہوئے میری ناف تک آپہنچا اس نے میری ناف کے ارد گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کردی یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا میں شاکر کا سر بالوں سے پکڑ کر ہٹانا چاہا تو اس نے خود کو چھڑا کر پھر اپنا کام شروع کردیا پھر اس نے میری ٹانگوں پر کسنگ شروع کردی رانوں پر اس کی زبان اس طرح چل رہی تھی جیسے کوئی تلوار چل رہی ہو میں نیچے سے گیلی ہورہی تھی آج کئی مہینوں کے بعد میں سکیس کررہی تھی اور وہ بھی ایسے طریقے کے ساتھ جو پہلے کبھی میں نے سنا بھی نہیں تھا اب شاکر میری پنڈلیوں پر کسنگ کررہا تھا پھر اس نے میرے پاﺅں کے انگوٹھے اپنے منہ میں لے لئے میرے پوری جسم میں کرنٹ دوڑ رہا تھا میں بس بس بس ہی کہہ رہی تھی مگر وہ مسلسل اپنے کام میں جٹا ہوا تھاتھوڑی دیر کسنگ کے بعد وہ پیچھے ہوگیا اور گھٹنوں کے بل بیڈ پر بیٹھ گیا اور اپنا انڈر ویئر اتار لگا میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی جیسے ہی اس کا انڈر ویئر اترا اور اس کا موٹا تازہ اور لمبا لن باہر آیا اور میری حیرت سے آنکھیں پھٹ گئیں کم از کم سات آٹھ انچ کا ہوگا
کیا تمام پنجابیوں کے لن اتنے لمبے ہی ہوتے ہیں ( اس کا لن دیکھتے ہی میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا)
شاکر ہنسنے لگا اور اس نے کوئی جو اب نہ دیا وہ میری ٹانگوں کے درمیان میں آگیا اور میری ٹانگیں اپنے کوہلوں پر رکھ کر اپنے لن کو میری پھدی کے ساتھ رگڑنے لگا میں مزے کی ایک نئی دنیا میں پہنچ چکی تھی اور جلد از جلد اس کی انتہا کو پہنچنا چاہتی تھی اس نے اپنا لن میری پھدی پر رکھا اور جھٹکا دے کر اندر کیا جھٹکے سے لن میری پھدی میں چلا گیا اور لن موٹا ہونے کی وجہ سے مجھے تھوڑی سی تکلیف بھی ہوئی میں سمجھی سارا لن اندر چلا گیا ہوگا مگر چند لمحوں کے بعد اس نے ایک اور جھٹکا دیا اور میرے منہ سے چیخ نکل گئی اب اس کا سارا لن میری پھدی میں چلا گیا تھا درد کے مارے میری جان نکل رہی تھی مظفر کا لن شاکر کے مقابلے میں آدھ ہی ہوگا اور موٹا بھی اتنا نہیں ہوگا آج پہلی بار اتنا بڑا اور موٹا لن لینے سے مجھے بہت تکلیف ہورہی تھی لیکن مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ یہ تکلیف دو چار منٹ کی ہے شاکر نے جھٹکے دینا شروع کئے تو میں نے اس سے کہا کہ مجھے تکلیف ہورہی ہے تھوڑی دیر رک جاﺅ وہ رک گیا اور میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگا اب مجھے اپنی سہاگ رات یاد آگئی جب مظفر نے پہلی بار کیا تو مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی میں نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی بات نہ سنی تھی اور میرے تڑپنے کے باوجود کام جاری رکھا تھا اس کے برعکس شاکر کافی کواپریٹو تھا اس نے میری تکلیف پر خود کو روک لیا تھا چند منٹ کے بعد اس نے آہستہ آہستہ سے اپنا لن اندر باہر کرنا شروع کیا پھر رک کر پوچھنے لگا کہ اب تو تکلیف نہیں ہورہی میں اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی میں نے کہا کہ نہیں تو اس نے آہستہ آہستہ سے اندر باہر کرنا شروع کردیا پھر بتدریج جھٹکے تیز کرنے لگا میں مزے کی ایک نئی دنیا میں پہنچ چکی تھی چند منٹ بعد میں فارغ ہو گئی مگر شاکر ابھی تک اسی سپیڈ کے ساتھ لگا ہوا تھا میں اس کے ساتھ مزے لے رہی تھی قریباً پچیس منٹ تک وہ جھٹکے مارنے کے بعد فارغ ہونے لگا تو مجھ سے پوچھا کہ اندر ہی چھوٹ جاﺅں میں نے اثبات میں سر ہلاتو وہ اندر ہی چھوٹ گیااس دوران میں تین بار فارغ ہوئی تھی اس کی منی سے میری پھدی بھر گئی مظفر کے لن سے کبھی بھی اتنی منی نہیں نکلی تھی فارغ ہونے کے بعد وہ میرے اوپر ہی لیٹ گیا اور میرا منہ چومنے لگا میں بھی اس کا بھرپور طریقے سے ساتھ دے رہی تھی کچھ دیر لیٹے رہنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ کچھ کھانا پینا ہے تو میں نے انکار میں سر ہلا دیا لیکن وہ اٹھا اور ننگا ہی کمرے سے باہر نکل گیا میں بیڈ سے اٹھی اور کپڑے پہننے لگی تو میں نے دیکھا کہ بیڈ شیٹ میری پھدی سے نکلنے والے مادے اور خون کے چند قطروں سے بھر گئی تھی ابھی میں کپڑے پہننے ہی لگی تھی کہ شاکر ہاتھ میں جوس کے دو گلاس پکڑے اندر آگیا اور مجھے کپڑے پہننے سے منع کردیا اور کہا کہ پہلے یہ جوس پیﺅ پھر ایک اور شفٹ لگا کر اکٹھے نہائیں گے پھر تم کپڑے پہننا میں نے خاموشی سے اس کے ہاتھ سے جوس لیا اور بیٹھ کر پینے لگی اس دوران شاکر نے مجھ سے پوچھا کہ سچ سچ بتاﺅ تم کو مزہ آیا ہے کہ نہیں میں خاموش رہی مجھے کافی شرم آرہی تھی اس نے دو تین بار پھر پوچھا تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا کتنا تو میں نے شرم سے سر نیچے کر دیا پھر کہنے لگا کہ بتاﺅ نہ
میں نے سر نیچے کئے رکھا اور آہستہ سے کہا کہ بہت
شاکر کھلکھلا کر ہنس پڑا اور کہا کہ اب کس سے شرما رہی ہو کھل کر بات کرو لیکن میں مسلسل اپنی نظریں نیچے کئے ہوئے تھی شاکر مسلسل میرے ساتھ باتیں کررہا تھا اور میں اپنی نظریں نیچے کئے ہوئے ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی جوس پی کر وہ پھر سے مجھے کسنگ کرنے لگا اب میں بھی پہلے سے زیادہ جوش دکھا رہی تھی پھر اچانک رک کر کہنے لگا پہلے سب کچھ میں نے کیا اب تم اپنی مرضی کے ساتھ کرو میں کچھ بھی نہیں کروں گا
میں کیا کروں
جو میں نے کیا ہے (اس سے پہلے مظفر ہی سب کچھ کرتے تھے میں نے کبھی بھی کچھ نہیں کیا تھا )
مجھے کچھ نہیں آتا
کیوں نہیں آتا تم کرو خود ہی ہوجائے گا یہ کہتے ہوئے وہ بیڈ پر لیٹ گیا اور مجھے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا میں اس کے اوپر لیٹ گئی مگر کیا کروں کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا اس نے مجھے کہا کرو نہ میں نے کہا کہ کیا کروں مجھے شرم آرہی ہے تو کہنے لگا کہ شروع میں کردیتا ہو ں اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہوں تمہارے دل میں جو آئے کرتی جاﺅ
اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور مجھے کسنگ کرنے لگا پھر اس نے کسنگ کرنی بند کردی اور میں اس کے ہونٹ چوسنے لگی پھر اس کے کانوں گردن اور پیٹ کے بعد ناف پر اپنی زبان پھیری تو اس کے منہ سے سسکاری نکل گئی میں نے اپنا کام جاری رکھا اور اس کی ٹانگوں پر کسنگ کرنے لگی پھر اس نے پکڑ کر مجھے اوپر کیا اور کہا کہ اب لن کو اپنے اندر لے لو یہ پہلی بار میں لن کے اوپر بیٹھ رہی تھی میں اس کے لن پر بیٹھی تو اندر نہیں جارہا تھا میں نے آہستہ آہستہ کرکے اس کو اندر کیا تو وہ میری پھدی کی گہرائیوں تک اتر گیا اب میں خود بخود اس کے اوپر نیچے ہونے لگی مجھے پہلے سے بھی زیادہ مزا آرہا تھا تھوڑی دیر کے بعد میں فارغ ہوگئی اور میری پھدی کے پانی سے اس کی ٹانگیں اور پیٹ گیلاہوگیا میں اس پانی کو صاف کرنے کے لئے اوپر سے اترنے لگی تو اس نے منع کردیا اور کام جاری رکھنے کو کہا دس پندرہ منٹ اوپر نیچے ہونے کے بعد میں تھک گئی مگر مزہ اتنا زیادہ تھا کہ بس کرنے کو دل نہیں کررہا تھا میں مسلسل کئے جارہی تھی اور وہ اپنی آنکھیں بند کئے نیچے لیٹا ہوا تھا اس نے اپنی زبان اپنے دانتوں کے نیچے لے رکھی تھی اور دونوں ہاتھوں سے میری مموں کو مسل رہا تھا وہ جس وقت بھی میرے نپل کو اپنی انگلیوں میں لیتا میری آہ نکل جاتی اب وہ فارغ ہونے والا تھا اس نے مجھے پھر کہا کہ اندر یا باہر مگر میں اس کی بات ان سنی کر کے لگی رہی وہ پھر فارغ ہوگیا اب کی بار تقریباً تین منٹ تک اس کا لن منی چھوڑتا رہا میں پوری طرح نڈھال ہوچکی تھی اور میرا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا میں اس کے اوپر ہی ڈھیر ہوگئی اس نے مجھے اپنی باہوں میں جکڑ لیا تھا اور مجھے مسلسل چوم چاٹ رہا تھا جبکہ مظفر جب بھی میرے ساتھ کرتے تھے فارغ ہوتے ہی آنکھیں بند کر کے سوجاتے تھے انہوں نے کبھی یہ بھی نہیں پوچھا کہ میں بھی مکمل ہوئی ہوں یا نہیں جبکہ اس کے برعکس شاکر مجھے بار بار پوچھ رہے تھے اور فارغ ہونے کے بعد بھی مجھ کو کسنگ کررہے تھے جس کا مجھے بہت مزہ آرہا تھا کچھ دیر بعد میں اس کے اوپر سے اٹھی تو اس نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑا کپڑا اٹھا کر مجھے دیا اور کہنے لگا کہ اس سے خود کو صاف کرلومیں نے لیٹے لیٹے خود کو اور پھر شاکر کو صاف کیا اور اٹھنے لگی تو اس نے پھر مجھے پکڑ کر ساتھ لٹا لیا اور کہنے لگا کہ ابھی کدھر لیٹی رہو کچھ آرام کرومیں پھر لیٹ گئی اس نے مجھ سے باتیں کرنا شروع کردیں میں کافی حد تک ریلیکس تھی اور اب مجھے شرم بھی نہیں آرہی تھی میں نے بھی اس کے ساتھ باتیں کیں اس موقع پر کئی موضوعات پر گفتگو ہوئی تقریباً ایک گھنٹہ لیٹنے کے بعد اس نے مجھے اٹھایا اور بازو سے پکڑ کر کمرے کے ساتھ ہی اٹیچ باتھ روم میں لے گیا اور شاور کھول دیا ٹھنڈا ٹھنڈا پانی جسم پر پڑا تو مجھے کپکپی آگئی اس نے ایک بار پھر مجھے اپنی باہوں میں جکڑ لیا پھر تھوڑی دیر بعد صابن پکڑ کر میرے جسم پر لگانے لگا پھر میں نے خود ہی اس کے کہنے کے بغیر ہی اس سے صابن پکڑ کر اس کے جسم پر ملا اور پھر پندرہ منٹ تک شاور لیتے رہے اور پھر دونوں نے ٹاول سے ایک دوسرے کو خشک کیا اور دونوں ننگے ہی باہر آگئے اس نے میرا بریزیئر پکڑ کر مجھے دیا اور پھر اس کے ہک خود ہی بند کئے پھر شلوار اور قمیص پہننے میں میری مدد کی اس کے بعد خود کپڑے پہن کر مجھے ڈرائنگ روم میں لے آیا اور خود کچن میں چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد ہاتھ میں ایک پلیٹ اور چند روٹیاں پکڑے آگیا پلیٹ میں دال تھی ہم دونوں نے مل کر دال کھائی اور پھر باتیں کرنے لگے اب اس نے مجھے پوچھا کہ اب بتاﺅ مظفر کا تبادلہ کہاں کرانا ہے میں نے جواب دیا جو آپ کی مرضی آپ کریں میں کچھ نہیں کہوں گی وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا کہ دل تو نہیں چاہتا کہ تمہارے شوہر کا تبادلہ کراﺅں مگر اگر تم کہو تو سب کچھ کروں گا مگر میں چاہتا ہوں کہ ساری زندگی تم میرے پاس رہو اگر ایسا نہیں کرسکتی تو کم از کم کچھ دن اور مجھے اپنی قربت میں رہنے دو میں خاموش رہی پھر کہنے لگا کہ اب گھر جانا ہے یا مزید کچھ دیر ٹھہرنا ہے میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو ڈیڑھ بج رہا تھا میں نے کہا جلدی سے گھر چھوڑ آﺅ بچے بھی آنے والے ہوں گے اس نے گاڑی نکالی اور مجھے گھر چھوڑ آیا راستے میں کہنے لگا کہ کل پھر آجاﺅ میں نے کہا سوچوں گی تو کہنے لگا کہ رات کو فون پر بتا دینا شام کو ساڑھے پانچ بجے کے قریب مظفر گھر آئے اور آتے ہی میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگے جیسے مجھ میں کچھ ڈھونڈ رہے ہوں لیکن بولے کچھ نہیں رات کو کھانے کے بعد لیٹے تو پوچھنے لگے کیا بنا میں نے جواب دیا کہ میں اس کے گھر گئی تھی تو کہنے لگے پھر میں نے کہا اس نے جو کرنا تھا کرلیا تو کرید کر کہنے لگے کیا کیا اور کیسے کیا میں خاموش رہی اور اس کے بارے میں سوچنے لگی کہ کیسے بے غیرتوں کی طرح پوچھ رہا ہے بار بار پوچھنے پر بھی میں خاموش رہی تو غصہ ہو گئے میں بھی جواباً غصے میں آگئی اور کہا کہ جس کام کے لئے بھیجا تھا اس نے وہی کام کیا ہے میرا غصہ دیکھ کر خاموش ہوگیا اس سے پہلے کبھی میں نے ان کے ساتھ غصہ میں بات نہیں کی تھی غصہ تو دور کی بات میں نے کبھی ان کو ایسے محسوس بھی نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ جو پوچھ رہے ہیں میں وہ ان کو نہیں بتانا چاہتی مگر آج میں ان کے سامنے ان کے مقابلے میں جواب دے رہی تھی اور وہ بھی ان کے لہجے سے بھی زیادہ سخت لہجے میں مگر وہ ڈھیٹوںاور بے غیرتوں کی طرح بات سن گیا پھر کہنے لگا میرے تبادلے کا کیا بنا میں نے جواب دیا کہ اس نے کہا ہے کہ ابھی مزید کچھ دن اور اس کے ساتھ یہی کام کرنا پڑے گا تو اونچی آواز میں گالیاں دینے لگا اور کہنے لگا کہ سالا کتا حرامی تم آئندہ اس کے پاس نہیں جاﺅ گی میں خاموش ہوگئی تو کچھ دیر بعد خود بھی خاموش ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد بولا اب کس دن آنے کو بولا ہے میں نے جواب دیا کہ کل تو کچھ سوچ کر بولا کہ ٹھیک ہے چلی جانا مگر اس کو کہو کہ جلدی سے جلدی کام کردے اس کام کو لٹکنا نہیں چاہئے میں خاموش ہوگئی پھر میں نے مظفر کا فون لے کر شاکر کو فون کیا اور اگلے دن کے پروگرام کے بارے میں بتایا تو خوش ہوگیا اب میرا انگ انگ دکھ رہا تھا مجھے بھرپور نیند آئی رات کو ایک بار مظفر نے مجھے ہلایا اور سیکس کے لئے کہا تو میں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور خود دوسری طرف ہوکر لیٹ گئی مظفر نے بھی دوبارہ مجھے ڈسٹرب نہیں کیا اگلی صبح پھر مظفر ناشتہ کئے بغیر ہی جلدی چلے گئے اور شاکر پروگرام کے مطابق مجھے ساڑھے نو بجے مجھے لینے آگئے اس دن انہوں نے مجھ سے ایک اور انداز کے ساتھ سیکس کیا جس کو میں نے بہت زیادہ انجوائے کیا اس دن سیکس سے فارغ ہوکر اس کو مظفر کی رات والی گفتگو سنائی تو ہنسنے لگا اور کہا کہ وہ بے غیرت ہے تم کو روک نہیں سکتا اس دن شاکر نے جاتے ہوئے مجھے ہزار ہزار والے دو نوٹ بھی دئےے اور کہا کہ یہ نوٹ مظفر کو دے دوں میں نے پہلے انکار کردیا پھر اس کے اصرار پر پکڑ لئے ہدایت کے مطابق میں نے یہ نوٹ مظفر کو دیئے تو اس نے ہچکچاتے ہوئے پکڑ لئے اس رات بھی مظفر کا دل شائد کچھ کرنے کو کر رہا تھا مگر میں سو گئی اس کے بعد دوسرے تیسرے دن میں شاکر سے ملتی رہی پہلے ایک آدھ بار مظفر نے مجھے تبادلہ جلدی کرانے کے لئے کہا مگر ہر بار میں اسے شاکر کی طرف سے دیئے گئے ہزار کبھی دو ہزار کبھی پانچ سو روپے دے دیتی اور وہ اس کو پکڑ کر جیب میں ڈال لیتا پھر آہستہ آہستہ اس نے تبادلے کے متعلق پوچھنا بند کردیا ایک سال ایسے ہی گزر گیا کہ اچانک ایک روز مظفر نے گھر آکر کہا کہ میرا کراچی تبادلہ ہوگیا ہے میں بہت افسردہ ہوئی میں اب شاکر کو ملے بغیر رہ نہیں سکتی تھی میں اس کی عادی ہو گئی تھی وہ ہر بار کسی نئے انداز کے ساتھ سیکس کرتا تھا میں نے جان بوجھ کر ہی کہا اچھا ہوا شاکر سے بھی جان چھوٹ جائے گی تو جواب میں مظفر نے کہا کہ نہیں روزینہ نہیں اب ہم لوگ یہاں سیٹل ہوچکے ہیں کہیں اور جاکر پتہ نہیں کیسے حالات ہوں تم شاکر سے کہو کچھ کرے میں نے شاکر سے کہا تو ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ یہ آرڈر میں نے جان بوجھ کر کرائے تھے تم فکر نہ کرو میں خود بھی ایسا نہیں چاہتا اس کے اگلے روز ہی مظفر خوشی خوشی گھر آیا اور کہنے لگا کہ تم بہت اچھی ہو شاکر سے کہہ کر میرا تبادلہ رکوا دیا اب بھی ہفتے میں دو بار شاکر کے ساتھ ضرور ملتی ہوں اس سے میری ” ضرورت“ بھی پوری ہوجاتی ہے اور میرے شوہر کو کچھ رقم بھی مل جاتی ہے کبھی کبھی جب شاکر مصروف ہوں یا لاہور میں نہ ہوں تو میں مظفر کے سامنے ان کے ساتھ موبائل پر لمبی لمبی گفتگو کرتی ہوں جبکہ مظفر کمرے سے نکل جاتا ہے اگر کبھی مظفر کی موجودگی میں شاکر گھر آجائے تو وہ شاکر کو بٹھا کر کسی بہانے سے باہر چلے جاتے ہیں
میں شاکر کی بہت شکر گزار ہوں ان کی وجہ سے مجھے نئے نئے مزے کرنے کا موقع ملتا ہے اور آج تک شاکر نے کبھی مجھے بلیک میل کرنے یا مجھ پر دھونس جمانے کی بھی کوشش نہیں کی جب کبھی میرا سیکس کو دل نہ کرے تو شاکر میرے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرتا مجھے شاکر کی دوسری کئی لڑکیوں کے ساتھ معاملات کا بھی معلوم ہے لیکن میں نے اس کو کبھی منع نہیں کیا ایک بار میرا دل کیا کہ میں مظفر سے طلاق لے کر شاکر سے شادی کرلوں یہ بات میں نے شاکر سے کی تو اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرسکتا اس لئے میں طلاق نہ لوں اس کی اس بات کا مجھے دکھ تو بہت ہوا لیکن بعد میں میں بھی سمجھ گئی کہ طلاق کے میرے بچوں اور خاندان میں کیا اثرات ہوں گے
میرا نام روزینہ خان ہے اور میری عمر 27 سال کے قریب ہوگی میرا تعلق کوئٹہ کے ایک پٹھان خاندان کے ساتھ ہے میری شادی 11 سال پہلے مظفر خان کے ساتھ ہوئی تھی جو اس وقت مجھ سے دس بارہ سال بڑا ہوں گے میں بہت زیادہ نہیں تو ایوریج خوب صورت ہوں جبکہ مظفر مجھ سے زیادہ ہینڈ سم اور بھر پور مرد تھے میں اس وقت بھی کافی حد تک پرکشش جسم کی مالک ہوں جبکہ مظفر مجھ سے بہت بڑی عمر کے معلوم ہوتے ہیں کوئی بھی ہم دونوں کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ان کی بیوی ہوں مظفر ایک سرکاری محکمہ میں ملازم ہیں اور ان کی پوسٹیں شروع سے ہی کوئٹہ میں رہی ہے دو سال پہلے ان کی لاہور پوسٹنگ ہوئی اس وقت سے ہم لوگ لاہور میں رہائش پذیر ہیں پٹھان خاندانوں کی روایات کے برعکس ہمارے 3 بچے ہیں (حالانکہ کہ پٹھانوں کے دس دس بارہ بارہ بچے ہوتے ہیں) شادی کے 2 سال میں امید سے ہوئی تو خاندان میں بہت سی خوشیاں منائی گئیں لیکن میری ازواجی زندگی پر اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوئے مظفر اب مجھ سے ہفتے میں ایک آدھ مرتبہ ہی ہم بستری کرتے تھے تین ماہ ایسے ہی گزر گئے اس کے بعد مظفر میرے پاس آنے سے بھی کتراتے میں کبھی کبھی دبے لفظوں میں ان سے ان کی بے رخی پر احتجاج کرتی تو کہتے تم امید سے ہو ایسا کرنے سے بچا ضائع ہوسکتا ہے کچھ مہینوں کی ہی تو بات ہے پھر ٹھیک ہوجائے گا آخر نو ماہ گزر گئے اور میں نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا سوا مہینہ گزارنے کے بعد مظفر پھر سے میرے ساتھ ہم بستری کرنے لگے مگر ان میں پہلے جیسا جوش نہیں تھا ان کی طرف سے جوش میں کمی کو میں بہت بری طرح محسوس کررہی تھی لیکن کچھ نہ کرسکی مزید کچھ عرصہ گزرا اور ہمارے ہاں دو مزید بچے پیدا ہوگئے جبکہ ہم میاں بیوی کے درمیان مزید دوریاں پیدا ہوگئیں جس کی وجہ سے میں گھر میں گھٹن سی محسوس کرنے لگی ایسے ہی ہماری شادی کو نو سال کا عرصہ گزر گیا اب مظفر عمر کے اس حصہ میں پہنچ گئے تھے جہاں وہ مہینے میں ایک آدھ بار ہی میرے پاس آیا کرتے تھے کئی بار وہ مجھے ادھورہ ہی چھوڑ کر خود مجھے سے الگ ہوجاتے تھے جس پر مجھے بہت ہی ڈپریشن ہوتی تھی میں گھٹ گھٹ کر جی رہی تھی ایک دن مظفر گھر آئے تو بہت پریشان تھے میں نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی ٹرانسفر لاہور ہوگئی ہے ان کے ساتھ میں بھی پریشان ہوگئی کہ پہلے تو مہینے میں ایک آدھ بار میرے قریب آجاتے تھے سیکس نہ ہی سہی کم از کم ان کا قرب تو مجھے نصیب تھا اب وہ لاہور چلے گئے تو میں مزید تنہائی کا شکار ہوجاﺅں گی مظفر نے اپنے کئی ہمدردوں اور دوستوں کو ٹرانسفر رکوانے کے لئے کہا مگر کچھ نہ بنا آخر ایک ہفتہ کے بعد مظفر ہم سب کو چھوڑ کر لاہور آگئے لیکن اگلے ہی مہینے وہ پھر کوئٹہ گئے اور مجھے بچوں سمیت لاہور لے آئے یہاں انہوں نے ایک مناسب سا گھر کرایہ پر لے لیا اور بچوں کو ایک سرکاری سکول میں داخل کرادیا یہاں بھی مظفر مسلسل کوئٹہ تبادلہ کرانے کے لئے کوشاں رہے مگر ناکامی ہوئی کوئٹہ میں جوائنٹ فیملی اور اپنا ذاتی گھر ہونے کی وجہ سے ہمارا گزر بسر بہت اچھا ہورہا تھا مگر لاہور میں آکر ہم مظفر کی محدود تنخواہ میں ہینڈ ٹو ماﺅتھ کی پوزیشن میں آگئے مہینے کے آخر میں گھر میں سب ختم ہوجاتا مظفر بہت پریشان رہتے
ایک دن مظفر نے دفتر سے گھر فون کیا اور کہا کہ روزینہ آج تیار ہوجانا شام کو ایک دوست کی دعوت ولیمہ پر جانا ہے میرے لئے یہ حیرت کی بات تھی کیونکہ آج سے پہلے کبھی بھی میں خاندان کے قریبی لوگوں کے علاوہ کسی کی شادی یا دوسرے فنکشن میں نہیں گئی تھی خیر میں نے ان سے کچھ نہ کہا اور ان کے گھر آنے سے پہلے خود تیار ہوگئی اور بچوں کو بھی تیار کردیا جبکہ مظفر کے کپڑے پریس کرکے رکھ دیئے مظفر نے آکر بتایا کہ صرف ہم دونوں چلیں گے بچے گھر پر رہیں گے دو تین گھنٹے تک ہم واپس آجائیں گے ہم بچوں کو گھر پر ہی چھوڑ کر رکشہ پر گلبر گ کے ایک شادی ہال میں چلے گئے جہاں بہت ہی گہما گہمی تھی مرد اور عورتیں ایک ہی ہال میں اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے مجھے یہاں بہت ہی شرم آرہی تھی خیر مظفر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے مجھ میں کچھ حوصلہ تھا میں ان کے ساتھ ہال میں داخل ہوگئی ہال کے دروازے پر مظفر نے اپنے دوست اور ان کی فیملی کے دیگر افراد کے ساتھ میرا تعارف کرایا اور ہم ہال میں ایک الگ میز پر بیٹھ گئے اس دوران کئی افراد مظفر کے ساتھ آکر ملے جبکہ میں منہ اپنی چادر کے ساتھ ڈھانپ کر خاموشی سے بیٹھی رہی کھانے کے دوران ایک شخص اچانک بغیر اجازت کے ہماری میز پر آبیٹھا مجھے اس کی یہ حرکت بہت ہی بری لگی لیکن وہ شخص آتے ہی مظفر کے ساتھ فرینک ہوگیا اور باتیں کرنے لگا میں نے کھانا چھوڑ کر منہ دوبارہ ڈھانپ لیا باتوں باتوں میں مظفر نے مجھے مخاطب کرکے کہا روزینہ یہ میرے باس شاکر صاحب ہیں اور شاکر صاحب یہ میری بیوی روزینہ
”ہیلو کیا حال چال ہیں“ اب وہ شخص مجھ سے براہ راست مخاطب تھا
یہ میری زندگی میں پہلی بار کسی غیر محرم نے مجھے براہ راست میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مخاطب کیا تھا میں اس وقت شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ان کی طرف سے حال چال پوچھنے پر میں صرف سر ہی ہلا سکی
” میں ان کا باس واس نہیں صرف کولیگ ہوںمظفر تو بس ایسے ہی ذرے کو پہاڑ بنا دیتے ہیں “ وہ شخص ابھی تک مجھے گھورے جارہا تھا
میں ابھی بھی نظریں نیچی کئے خاموش بیٹھی ہوئی تھی اس کے بعد وہ شخص مظفر کے ساتھ باتیں کرنے لگا اور دس پندرہ منٹ کے بعد اٹھ کر چلا گیا آخر دو تین گھنٹے کے بعد فنکشن ختم ہوگیا اور ہم میزبان سے اجازت لے کر ہال سے باہر نکل آئے اور سڑک پر رکشہ کے انتظار میں کھڑے ہوگئے چند لمحوں کے بعد ہی ایک کار ہمارے قریب آکر رکی اس میں مظفر کا باس شاکر ہی بیٹھ تھا اس نے کہا مظفر صاحب کدھر جانا ہے مظفر نے اس سے کہا کہ سر ہم کو چوبرجی کی طرف جانا ہے تو اس شخص نے کار کا اگلا دروازہ کھولتے ہوئے کہا کہ آئےے میں آپ کو ڈراپ کردوں گا مظفر نے پہلے تو انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں سر آپ خواہ مخواہ تکلیف کررہے ہیں ہم رکشہ پر چلے جائیں گے مگر اس شخص نے کہا تکلیف کی کوئی بات نہیں میں بھی ایک کام کے سلسلہ میں ادھر ہی جارہا ہوں جس پر مظفر نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا میں ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی اور مظفر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے راستے میں مظفر اور شاکر دونوں باتیں کرتے رہے میں ان کی باتوں سے بے نیاز چادر سے منہ ڈھانپے باہر دیکھ رہی تھی چوبرجی پہنچ کر اس شخص نے ہم کو اتار دیا اور جاتے ہوئے مظفر سے کہنے لگا یار مظفر کبھی بھابھی کو لے کر ہمارے گھر بھی آﺅ جس پر مظفر نے کہا ٹھیک ہے سر کبھی آﺅں گا مگر آپ یہاں تک آگئے ہیں اسی گلی میں ہمارا گھر ہے چائے تو پی کر جائیں مگر وہ ان کی بات سنی ان سنی کرکے چلا گیا
میں نے گھر آکر مظفر سے کہا کہ کیا ضرورت تھی مجھے اس فنکشن میں لے کر جانے کی اور پھر آپ ایک اجنبی کے ساتھ گاڑی میں مجھے لے کر بیٹھ گئے مگر مظفر نے کہا کہ وہ شخص اجنبی نہیں تھا میرا باس تھا جبکہ اس فنکشن میں سب لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ آئے ہوئے تھے اور میرے دوست نے مجھے بھی فیملی کے ساتھ آنے کو کہا تھا میں اکیلا جاتا تو سب مجھ سے ناراض ہوتے کہ فیملی کے ساتھ کیوں نہیں آیا
چند روز گزرے کہ ایک روز مظفررات کو لیٹ گھر آئے تو ان کے ساتھ شاکر نامی شخص بھی تھا مظفر ان کے ساتھ بیٹھک میں بیٹھ گیا اور مجھے چائے لانے کو کہا اس وقت تینوں بچے سو چکے تھے میں نے چائے تیار کی اور بیٹھک کے اندرونی دروازے سے مظفر کو آواز دی کہ چائے لے لیں مظفر نے مجھے کہا کہ اندر ہی لے آﺅ مجھے اس وقت بہت حیرت ہوئی کہ کبھی بھی پہلے میں بیٹھک میں کسی مہمان کی موجودگی میں نہیں گئی تھی چائے وغیرہ یا تو بچے لے جاتے یا مظفر خود پکڑ لیتے تھے میں اس وقت صرف دوپٹہ لئے ہوئے تھی خیر میں ان کے حکم پر اپنا دوپٹہ درست کرکے چائے اندر ہی لے گئی اور چائے رکھ کر واپس آگئی مجھے محسوس ہوا کہ شاکر مسلسل میرے جسم کا جائزہ لے رہا ہے میں چائے رکھ کر فوراً ہی واپس آگئی دونوں بیٹھک میں کافی دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے دس پندرہ منٹ کے بعد مظفر مہمان کو الوداع کرکے کمرے میں آگئے میں ان پر برس پڑی کہ آپ نے مجھے کیوں اندر بلایا تو کہنے لگے یہ لاہور ہے اور اگر یہاں ہمیں رہنا ہے تو تمام لوگوں کی طرح ہی رہنا ہوگا ورنہ تمام لوگ ہم سے ملنا جلنا چھوڑ دیں گے کوئٹہ کی طرح لاہور میں نہیں رہا جا سکتا ہاں شاکر صاحب مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دے گئے ہیں بتاﺅ کس دن چلیں میں نے کہا کہ مجھے نہیں جانا کسی شاکر واکر کے گھر لیکن مظفر نے خود ہی کہا کہ اگلے اتوار کو چلیں گے اور تم بھی میرے ساتھ چلو گی میں خاموش رہی
اتوار کے روز مظفر نے مجھے صبح دس بجے کہا کہ تیار ہوجاﺅ آج ہمیں دوپہر کا کھانا شاکر صاحب کے ہاں کھانا ہے میں نے انکار کیا تو کہنے لگے مجھے نہیں معلوم تم جلدی سے تیار ہوجاﺅ اور میرے کپڑے بھی پریس کردو میں نہ چاہتے ہوئے بھی کپڑے چینج کرکے ان کے ساتھ چل دی ہم رکشہ لے کر شاکر صاحب کے گھر چلے گئے ان کے گھر گئے تو ایک نوکر نے دروازہ کھولا اور ہمیں ایک کمرے میں بٹھا دیا اور چائے کے ساتھ بسکٹ دیئے اس نے بتایا کہ شاکر صاحب تو ابھی گھر سے باہر گئے ہیں تھوڑی دیر تک آجائیں گے تھوڑی دیر کے بعد شاکر صاحب بھی گھر آگئے اور ساتھ میں بڑے بڑے شاپروں میں کھانا لے آئے شاپر نوکر کو پکڑا کر خود ہمارے پاس بیٹھ گئے میں یہ بات نوٹ کررہی تھی کہ شاکر بار بار میری طرف دیکھتا اور میرے جسم کا جائزہ لیتا تھا میں خاموشی سے بیٹھی رہی باتوں باتوں میں شاکر نے کہا کہ بھابھی لگتا ہے آپ یہاں ایزی فیل نہیں کررہیں میں نے انکار میں سر ہلایا تو کہنے لگا کہ پھر آپ ابھی تک خاموش بیٹھی ہوئی ہیں میرے گھر میں کوئی خاتون نہیں ہے اس لئے مجھے ہی آپ کو کمپنی دینا ہوگی آپ اپنے ہی گھر میں بیٹھی ہیں
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں میں آپ کی باتیں انجوائے کررہی ہوں “
آپ کو ہمارے دفتر کی باتوں سے کون سی انجوائے منٹ مل رہی ہے
بس ٹھیک ہے آپ باتیں کیجئے
اچھا آپ بتائیں لاہور آکر کیسا فیل کررہی ہیں
ٹھیک
بچوں کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے
ٹھیک ہی ہے
ویسے پہلے پہل مظفر تو بہت تنگ تھا لیکن اب کافی حد تک ایڈجسٹ کرچکا ہے
”نہیں سر ایسی بات نہیں مجبوری ہے ورنہ میرا بس چلے تو ایک منٹ بھی لاہور میں نہ ٹھہروں “اس بار میری بجائے مظفر نے جواب دیا
یار نوکری میں تو ایسا ہوتا ہے
ہاں سر مگر آپ کچھ کیجئے نہ
میں کیا کرسکتا ہوں
سر آپ چاہیں تو میری ٹرانسفر دوبارہ کوئٹہ ہوسکتی ہے
مظفر تم کو معلوم ہے کہ پالیسی کتنی سخت ہوگئی ہے میں فی الحال کچھ بھی نہیں کرسکتا ہاں اگر تم کہوں تو میں کراچی یا اسلام آباد کے لئے ٹرائی کرسکتا ہوں
سر نہیں ابھی بہت مشکل سے یہاں تھوڑا سا دل لگا ہے وہاں پھر جاکر نئے سرے سے شروع کرنا پڑے گا
ہاں یہ تو ہے
لیکن سر آپ کوشش ضرور کیجئے گا
ٹھیک ہے
اب پھر شاکر نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بھابھی مظفر آپ کو آﺅٹنگ پر بھی لے کر گیا ہے یا نہیں
نہیں میں نے خود ہی کبھی ان سے نہیں کہا اور ویسے بھی میری عادت ہی ایسی ہے کہ کم ہی گھر سے نکلتی ہوں کوئٹہ میں تو اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھی جانے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا تھا اور بڑوں سے اجازت لینا پڑتی تھی یہاں تو پھر بھی کبھی کبھی مظفر مجھے کہیں نہ کہیں لے جاتے ہیں میں اب کافی حد تک خود کو ایزی فیل کررہی تھی لیکن شاکر کی نظریں اب بھی مجھے میرے جسم کے اندر جانکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی
لیکن بھابھی یہ لاہور ہے اور یہاں خود کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے یہاں کے ماحول کے حساب سے رہنا پڑے گا
میں پھر خاموش ہوگئی
کھانا کے دوران مظفر اور شاکر باتیں کرتے رہے اور میں خاموشی سے بیٹھی تھوڑا بہت کھاتی رہی کھانا بہت لذیز تھا کھانے کے بعد ہم پھر کمرے میں آبیٹھے جہاں آکر شاکر نے کہا کہ اب کھانا تو کھا لیا ہے آج چائے بھابھی کے ہاتھ کی پیئں گے
مظفر نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ روزینہ تم چائے بنا لاﺅ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور شاکر میری رہنمائی کرتے ہوئے کچن تک لے آیا اور مجھے دودھ چائے اور چینی دے کر خود کمرے میں جابیٹھا میں چائے لے کر کمرے میں گئی تو دونوں قہقہے لگا رہے تھے
” واہ چائے تو بہت مزیدار ہے “شاکر نے پہلا گھونٹ لیتے ہی بول دیا
”ہاں بھئی ہماری بیگم کھانا بھی بہت اچھا بناتی ہیں لیکن ہمارے روائتی کھانے شائد آپ پنجابی لوگ پسند نہ کریں “مظفر نے جواب دیا
نہیں یار تم نے کبھی دعوت ہی نہیں دی ہم کیسے کھا سکتے ہیں بھابھی کے ہاتھ کے پکے کھانے ویسے مجھے افغانی کھانے بہت پسند ہیں
نہیں سر آپ جب دل چاہے آجائیں
ٹھیک ہے کسی دن پروگرام بنائیں گے
ہاں ٹھیک ہے لیکن سر آنے سے ایک دو دن پہلے بتا دیجئے گا
ٹھیک ہے
مظفر اور شاکر دونوں کافی دیر تک باتیں کرتے رہے اس دوران شاکر کبھی کبھی مجھے بھی مخاطب کرلیتا جبکہ میں صرف ہوں ہاں میں جواب دیتی جبکہ شاکر بار بار مجھے بار بار گھور رہا تھا باتوں باتوں میں شام کے چار بج گئے اب مظفر نے شاکر سے اجازت لی تو شاکر اندر سے دو پیکٹ اٹھا کر لایا اور مجھے تھما دئےے اور کہا کہ بھابھی یہ میری طرف سے آپ کے لئے گفٹ ہیں آپ پہلی بار میرے گھر آئی ہیں جلدی میں بازار سے صرف یہی لا سکا ہوں اور مظفر یہ تمہارے لئے ایک پیکٹ اس نے مظفر کے ہاتھ میں دے دیا
”سر اس کی کیا ضرورت تھی “مظفر نے پیکٹ پکڑتے ہوئے کہا
نہیں نہیں یار آپ لوگ پہلی بار میرے گھر آئے ہو پھر معلوم نہیں زندگی کہاں لے جائے
اس کے بعد شاکر ہم کو گھر تک چھوڑنے آیا اور گھر کے دورازے تک چھوڑ کر خود چلا گیا
گھر آکر میں نے مظفر سے کہا کہ میں آئندہ کبھی کسی کے گھر نہیں جاﺅں گی تم نے دیکھا تمہارا باس مجھے کس طرح گھور رہا تھا لیکن مظفر نے کہا کہ شاکر ایسا آدمی نہیں ہے بہت اچھا ہے دفتر میں مجھے کبھی بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں اس کا ماتحت ہوں اور تم کو خواہ مخواہ ہی ایسا محسوس ہورہا ہے اس کے بعد مظفر نے تینوں پیکٹ خود ہی کھول دیئے دوپیکٹس میں ہم دونوں کے سوٹ تھے جبکہ ایک میں میرے لئے جیولری تھی کافی مہنگی معلوم ہوتی تھی مظفر نے دیکھ کر کپڑوں اور جیولری کی تعریف شروع کردی اور مجھ سے کہا کہ کس دن شاکر صاحب کو اپنے گھر کھانے کو مدعو کروں میں نے کہا کہ جس دن مرضی کرلیں مگر میں ان کے سامنے نہیں جاﺅں گی مظفر نے جواب دیا نہ جانا تمہاری مرضی اگلے اتو ار کو ٹھیک رہے گا میں نے کہا ٹھیک ہے مظفر جمعہ کے دن گوشت اور کچھ فروٹ وغیرہ گھر لے آئے اور کہا کہ پرسوں شاکر صاحب آرہے ہیں اور تم اچھا سا کھانا پکا دینا
اتوار کے روز صبح ہی میں نے بھنہ گوشت‘ روسٹ اور شوربہ( افغانی روائتی کھانے) تیار کرنا شروع کردیئے بارہ بجے کے قریب شاکر ہمارے گھر آدھمکا میں روائتی افغانی چائے (قہوہ) ان کے لئے تیار کرکے اپنے بڑے بیٹے کے ہاتھ بیٹھک میں بھجوادیا اس پینے کے بعد کھانا بھی بھجوادیا شاکر صاحب تین بجے کے قریب گھر سے چلے گئے اس کے بعد مظفر اندر آئے اور کہنے لگے کہ تم بیٹھک میں کیوں نہیں آئی میں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی آپ کو بتادیا تھا کہ میں کسی کے سامنے نہیں جاﺅں گی کہنے لگے شاکر صاحب نے بار بار پوچھا کہ بھابھی کیوں نہیں آئیں اور کافی ناراض بھی ہورہے تھے میں خاموش رہی
اس کے بعد روز ہی مظفر گھر آکر شاکر صاحب کے گھن ہی گاتے رہتے اور روٹین میں دن گزرتے گئے تقریباً ایک ماہ بعد مظفر نے مجھے کہا کہ آج شاکر صاحب کے ہاں کچھ مہمان آنے والے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ان کے لئے افغانی کھانے بنوانا چاہتے ہیں میں تم کو اگلے ہفتہ کو ان کے گھر لے چلوں گا میں نے انکار کیا تو کہنے لگے جیسا میں کہتا ہوں کرو شاکر صاحب کے ساتھ میرا تعلق بھائیوں کی طرح ہوچکا ہے اور تم بھی ا ن کو اجنبی نہ سمجھا کرو خیر میں ہفتہ کے روز صبح مظفر کے ساتھ شاکر کے گھر چلی گئی شاکر گھر میں ہی موجود تھا مجھے کچن میں چیزیں دے کر خود دونوں گاڑی پر بیٹھ کر دفتر چلے گئے دوپہر کے وقت مظفر کا فون آیا انہوں نے میرا حال چال پوچھا اور مجھے افغانی ڈشز اچھی طرح تیار کرنے کی ہدایت کرنے لگے ڈیڑھ بجے کے قریب دروازے پر بیل ہوئی نوکر نے دروازہ کھولا اور شاکر آگئے وہ سیدھا کچن میں ہی آگئے اور مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے کہ بھابھی جیسا کھانا آپ نے گھر میں کھلایا تھا ویسا ہی ہونا چاہئے میں ان کے پیچھے دیکھنے لگی کہ مظفر بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گے مگر وہ اکیلا ہی تھا میں نے ان سے مظفر کے بارے میں استفسار کیا تو کہنے لگا کہ میں تو کسی دفتر ی کام کے سلسلہ میں ادھر آیا تھا سوچا گھر چکر لگا لوں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے معلوم کرلوں مظفر ابھی دفتر میں ہے مجھے بھی جانا ہے شام کو اکٹھے ہی آجائیں گے اور ہاں بھابھی مجھے بہت سخت بھوک لگی ہے اگر کوئی ڈش تیار ہوگئی ہو تو مجھے تھوڑا سا کھانا دے دیں یہ کہہ کر شاکر نے نوکر کو بازار سے کولڈ ڈرنک لانے کے لئے بھیج دیا اور خود کچن کے دروازے پر ہی کھڑا ہوگیا مجھے بہت عجیب سا محسوس ہورہا تھا وہ مسلسل مجھے گھور رہا تھا جس کی وجہ سے میرے ہاتھ کانپنے لگے تھے اس دوران میرے ہاتھ سے پلیٹ بھی گرنے لگی لیکن میں سنبھل گئی میں نے پلیٹ میں روسٹ کا ایک پیس رکھ کر ان کو دیا تو یہیں پر ہی کھڑے ہوکر کھانے لگے
”واہ بھئی واہ بھابھی آپ نے تو کمال کردیا اتنا لذیز کھانا کمال ہے بھابھی آپ کے ہاتھ میں تو جادو ہے جادوآپ جتنی خود خوب صورت ہیں اتنے اچھے کھانے بھی تیار کرتی ہیں “
میں پہلی بار کسی کے منہ سے اپنی تعریف سن رہی تھی اور مجھے عجیب سا لگ رہا تھا اس سے پہلے مظفر نے بھی میری کبھی تعریف نہیں کی تھی
شاکر نے پھر مجھے مخاطب کرکے کہا کہ بھابھی آپ کو میری طرف سے دیا ہوا سوٹ اور جیولری کیسی لگی میرے خیال سے وہ آپ پر بہت سوٹ کرے گی ویسے آپ جیولری کے بغیر بھی بہت خوب صورت ہیں لیکن وہ جیولری آپ کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دے گی
میں مسلسل خاموش تھی اور اپنی تعریف سن کر میرے ہاتھ پاﺅں سن ہورہے تھی کوئی اجنبی پہلی بار اس طرح میرے ساتھ مخاطب تھا
تھوڑی دیر کے بعد شاکر چلے گئے اور شام کو مظفر کے ساتھ گھر آگیا ہم دونوں کو شاکر کا نوکر گھر ڈراپ کرکے واپس آگیا گھر جاکر میں نے سوچا کہ مظفر کو سب کچھ بتادوں مگر معلوم نہیں کیوں خاموش رہی
اگلے روز شاکر کا فون آیا اور کچھ باتیں کرنے کے بعد مظفر نے فون مجھے دے دیا دوسری طرف شاکر تھا
بھابھی آپ نے تو کمال کردیا میں نے تو کل ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کے ہاتھ میں جادو ہے میرے دوست یوکے سے آئے ہوئے تھے بہت تعریف کررہے تھے میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتی رہی
اب اکثر شاکر کا فون آجاتا اور مظفر مجھے فون تھما دیتا میں مجبوراً تھوڑی بہت بات کرکے فون بند کردیتی کئی بار وہ خود بھی مظفر کے ساتھ ہمارے گھر آجاتا مگر میں کوشش کرتی کہ اس کے سامنے نہ ہی جاﺅں مگر مظفر مجھے مجبور کرتا تو میں چلی جاتی و ہ اب بھی میری طرف گھورتا اور مجھے محسوس ہوتا کہ اس کی نظر بہت گندی ہے
ایک روز رات کو مظفر اور میں لیٹے ہوئے تھے مظفر نے مجھے کہا کہ روزینہ شاکر صاحب میری کوئٹہ ٹرانسفر کراسکتے ہیں میں خاموش رہی انہوں نے پھر مجھے مخاطب کیا سمجھ نہیں آتا ان کو کیسے قائل کروں روزینہ تم یہ کام کرسکتی ہو
تم کیوں نہیں شاکر صاحب کو کہتی
میں ! میں کیسے کہہ سکتی ہوں
تم کہہ سکتی ہو اور وہ تمہاری بات نہیں ٹالے
آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں
مظفر نے یہ کہتے ہوئے اپنے موبائل سے شاکرکو فون ملایا اورسپیکر آن کرکے مجھے تھما دیا اور کہنے لگے کہ ان سے ابھی صرف حال چال ہی پوچھنا
میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی فون کان کو لگا لیا تیسری یا چوتھی بیل پر شاکر نے فون اٹھا
ہیلو کیا حال ہے مظفر
میں روزینہ بول رہی ہوں
جی کیا حال ہے بھابھی
ٹھیک ہوں
کیسے مجھے فون کرلیا
بس ایسے ہی
کیا مظفر سو رہے ہیں
نہیں
اچھا باہر گئے ہوں گے تو آپ نے سوچا کہ مجھے فون کرلیں مہربانی میں بھی کافی دن سے چاہ رہا تھا کہ کبھی اکیلے میں بات ہو مگر موقع ہی نہیں مل رہا تھا
کیا کہنا تھا آپ نے
بس آپ کی تعریف کرنے کو دل چاہتا تھا اور مظفر کے سامنے میں کرنا نہیں چاہتا تھا معلوم نہیں کیا سوچے گا
(یہ سب باتیں مظفر بھی سن رہا تھا )
کس بات کی تعریف
آپ تو ساری کی ساری تعریف کے لائق ہیں کہاں سے شروع کروں مظفر کو تو آپ کی قدر ہی نہیں ہوگی جتنی آپ خوب صورت ہیں اور ایک بات میں آپ سے مزید پوچھنا چاہوں گا اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو
کیا ! پوچھیں
مظفر تو آپ سے عمر میں بہت بڑا لگتا ہے اور اس کی صحت بھی اتنی اچھی نہیں ہے مگر آپ تو ابھی تک جوان ہیں کیا مظفر آپ کو سیکس میں مطمیئن کردیتا ہے
میں شاکر سے اس بات کی توقع نہیں کررہا تھا فوراً فون بند کردیا اور سوالیہ نظروں سے مظفر کی طرف دیکھنے لگی جو مجھ سے نظریں چرا رہا تھا تھوڑی دیر بعد مجھ سے بولا تم دوبارہ شاکر صاحب کو فون کرو اور ان کے ساتھ ایسی ہی باتیں کرو جیسی وہ کررہے ہیں یہ سالا ایسے ہی کام کرے گا مجھے پہلے ہی پتہ تھا
نہیں میں نہیں کرسکتی یہ بے غیرتی
نہیں تم کرو صرف فون ہی تو کرنا ہے
نہیں مظفر میں نہیں کرسکتی
تم کو کرنا ہی ہوگا (اب کی بار مظفر کا لہجہ سخت اور انداز حکمیہ تھا)
میں نے فون دوبارہ ملایا اور اگلی طرف سے فون اٹھاتے ہی کہا کٹ گیا تھا
مجھے معلوم تھا آپ دوبارہ کریں گی
جی
میں نے کچھ آپ سے پوچھا تھا
کیا
یہی کہ مظفر آپ کی سکیس کی ضرورت پوری کرتا ہے
جی ایسی بات نہیں
مجھے معلوم ہے یہ بوڑھا تم کو کیا پورا کرتا ہوگا روزینہ جس دن سے تم کو دیکھا ہے دل چاہتا ہے تم کو جی بھر کے پیار کروں میں نے تمہارے جیسی خوب صورت لڑکی آج تک نہیں دیکھی
جی دیکھیں آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں
تو کیسی باتیں کروں آپ کوئی اور بات کرلیں میرے ذہن میں تو جو بات ہوگی میں تو وہی کروں گا
جی میں نے تو اس لئے فون کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے کہ مظفر کی ٹرانسفر کرادوں
جی
مجھے معلوم ہے لیکن میں جان بوجھ کر ایسا نہیں ہونے دے رہا میں تم کو خود سے دور نہیں ہونے دینا چاہتا
جی ہمیں بہت پرابلم ہے آپ کو معلوم نہیں ہے
مجھے معلوم ہے میں ایک شرط پر ایسا کرسکتا ہوں
کیا شرط
تم کو اکیلے میرے گھر آنا ہوگا
جی میں کیسے آسکتی ہوں اگر مظفر کو معلوم ہوگیا تو وہ مجھے جان سے مار ڈالیں گے
نہیں مارے جیسے مجھے فون کررہی ہیں ویسے خود آجائیں اسے کیسے معلوم ہوگا کسی دن صبح ہی آجائیں مظفر آفس گیا ہوگا اور اس کے واپس گھر جانے سے پہلے میں آپ کو واپس ڈراپ کردوں گا اور آپ بچوں کو کہہ دیں کہ آپ بازار گئی تھیں
میں خاموش ہوگئی
ٹھیک ہے سوچ کر کل بتا دیں میں آپ کے فون کا انتظار کروں گا (یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا )
میں نے فون مظفر کو پکڑا کر تلخی بھرے لہجے میں اس سے کہا کہ دیکھ لیا کس ذہن کا بندہ ہے اور تم کہتے ہو کہ ایسا ویسا بندہ نہیں ہے اور میرے ساتھ اس کا تعلق بھائیوں جیسا ہے
مظفر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے تم کل صبح ہی اس کے گھر چلی جاﺅ
کیا کہا آپ کا دماغ تو پاگل نہیں ہوگیا ( میں نے کبھی بھی اس سے پہلے مظفر کے ساتھ اس طرح بدتمیزی کے ساتھ بات نہیں کی تھی مگر آج ان کی بات سن کر نہ جانے کیسے میرے منہ سے یہ الفاظ نکل آئے)
کچھ بھی نہیں ہوگا ایک بار میری ٹرانسفر ہوجائے
مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا
پلیز روزینہ تم کو یہ کام کرنا ہی ہوگا میرے لئے ‘ بچوں کے لئے ‘ تم کو معلوم ہے یہاں گزارہ کرنا مشکل ہورہا ہے
نہیں مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا
روزینہ پلیز
میں خاموش ہوگئی اور سوچنے لگی کہ مظفر کو کیا ہوگیا ہے اور وہ مجھے کس کام کے لئے کہہ رہے ہیں ۔
چند منٹ کے بعد مظفر کہنے لگے کہ میں شاکر کو فون ملا رہا ہوں تم اس سے کہو کہ میں کل صبح آپ کے گھر آنا چاہتی ہوں میں نے ناں کہی لیکن مظفر نے یہ کہتے ہوئے فون ملا کر میرے ہاتھ میں تھما دیا کہ کچھ نہیں ہوتا
اگلی طرف سے فوراً ہی فون اٹھا لیا گیا
جی روزینہ
شاکر صاحب میں کل صبح آپ کے گھر آنا چاہتی ہوں
گڈ ویری گڈ میں آپ کو صبح ساڑھے نو بجے اس وقت آپ کے گھر سے ہی پک کرلوں گا جب مظفر دفتر کے لئے نکل جائے گا اور آپ کے بچے سکول جاچکے ہوں گے یہ کہتے ہی شاکر نے فون بند کردیا
میں نے فون مظفر کو دیا اور اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مظفر بھی شرمندہ سے تھے انہوں نے نظریں چراتے ہوئے کہا روزینہ میری خاطر ایک بار صرف ایک بار مجھے معلوم ہے کہ یہ کام ٹھیک نہیں ہے اگر کسی کو اس کی بھنک بھی پڑ گئی تو ہم جی نہیں سکیں گے مگر صرف ایک بار
میں خاموش رہی اور دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گئی ساری رات مجھے نیند نہیں آئی میں جانے کن سوچوں میں گم رہی مظفر کی کروٹوں سے لگا کہ وہ بھی نہیں سو سکا صبح سات بجے میں اٹھی تو ساتھ ہی مظفر بھی اٹھ گئے ایک بار پھر کہنے لگے پلیز روزینہ ایک بار کسی طرح ٹرانسفر کوئٹہ ہونی چاہئے اس کے لئے تم قربانی دو میں خاموش رہی اور باتھ روم میں چلی گئی واپس آئی تو مظفر گھر سے جاچکے تھے میں نے بچوں کو ناشتہ دیا اور ان کو سکول بھیج کر کپڑے پہننے لگی ٹھیک ساڑھے نو بجے دروازے پر بیل ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے شاکر تھا ۔
ہیلو کیا حال ہیں کیا آپ تیار ہیں
جی
آجائیں گاڑی میں گاڑی میں بیٹھا آپ کا انتظار کررہا ہوں
میں نے گھر کو لاک کیا اور باہر نکلنے لگی باہر جاتے ہوئے میں پاﺅں سو سو من کے ہوگئے مجھ سے قدم نہیں اٹھایا جارہا تھا میں آہستہ آہستہ چلی اور گاڑی تک پہنچی تو شاکر نے گاڑی کا اگلا دروازہ کھول دیا میں اندر بیٹھ گئی اور شاکر نے گاڑی چلا دی میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور دل میں جانے کون کون سی سوچیں آرہی تھیں راستے میں ایک دوبار شاکر نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن میں خاموش رہی تو شاکر نے بھی خاموشی سے گاڑی چلانا شروع کردی گھر پہنچ کر شاکر نے دروازے پر گاڑی روکی اور مجھے کہنے لگا آج میں نے نوکر کو چھٹی دے دی ہے دروازہ خود ہی کھولنا پڑے گا دروازہ کھول کر پھر گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی اندر لے آیا پھر اتر کر گیٹ بند کرنے چلا گیا میں ابھی تک گاڑی میں ہی بیٹھی ہوئی تھی مجھ سے گاڑی سے اترنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی آج زندگی میں پہلی بار کسی نامحرم کے ساتھ میں گاڑی میں بیٹھ کر اکیلی آئی تھی اور آئی بھی کس کام کے لئے تھی ۔
”اتر آئیں روزینہ گھر میں کوئی نہیں ہے “میں شاکر کی آواز پر بھی گاڑی میں ہی بیٹھی رہی تو شاکر نے خود آکر دروازہ کھولا اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اندر لے گیا میں صوفے پر بیٹھ گئی تو میرے سامنے بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا
مجھے معلوم تھا کہ تم ضرور آﺅ گی اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ مظفر کو بھی تمہارے میرے گھر آنے کی خبر ہے لیکن تم بے فکر رہو میں اس بات کا اس سے بھی ذکر نہیں کروں گا
تم واقع ہی بہت خوب صورت ہے اور تمہارے مقابلے میں مظفر کچھ بھی نہیں ہے یہ تو لنگور کو کجھور ملنے والی بات ہے
میں مسلسل خاموش تھی اور میری ٹانگیں مسلسل کام رہی تھیں میری خاموشی پر وہ سامنے سے اٹھ کر میرے قریب آبیٹھا اور اس نے میرے گلے میں ہاتھا ڈال لئے اس کے بعد میری چادر اتار کر صوفے پر پھینک دی اور میری گردن میں پیچھے سے ہاتھ ڈال کر مجھے میرے ہونٹوں سے کس کرنے لگا مجھے بہت عجیب سا محسوس ہورہا تھا تھوڑی دیر کے بعد میں نے سوچا کہ یہاں آج میں اپنی عزت تو ہر صورت گنوا ہی دوں گی کیوں نہ خود بھی مزہ لے لوں اب میں نے بھی شاکر کا ساتھ دینا شروع کردیا آہستہ آہستہ میں بہت گرم ہوگئی شاکر نے کسنگ بند کی اور مجھے لے کر دوسرے کمرے میں چلا آیا اس نے آتے ہی میری قمیص اتارنا شروع کردی پھر بریزیئر بھی اتار پھینکا اور للچائی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا واہ کیا بات ہے اس کے بعد اس نے میری شلوار بھی اتار دی اور نیچے پہنی انگی بھی پھر اپنی شرٹ اور پھر پینٹ بھی اتار دی اب وہ صرف انڈر ویئر میں ہی تھا اس کا ہتھیار انڈر ویئر کے اندر سے ہی دکھائی دے رہا تھا اس نے مجھے بیڈ پر لٹا لیا اور مجھے ہونٹوں پر کسنگ شروع کردی میں اس کا بھر پور انداز میں ساتھ دے رہی تھی اس کے بعد اس نے میرے کانوں پر کسنگ شروع کردی مجھے عجیب سا مزہ آرہا تھا مظفر نے آج تک مجھے ہونٹوں کے علاوہ کہیں بھی کسنگ نہیں کی تھی کانوں کے بعد اس نے گردن پھر چھاتی پر میرے مموں کو چوسنا شروع کردیا مزے کے ساتھ میرے منہ آہیں نکلنے لگیں میں ایک عجیب سے نشے سے دوچار تھی اس کے بعد اس نے میری پیٹ پر کسنگ شروع کردی اورہوتے ہوئے میری ناف تک آپہنچا اس نے میری ناف کے ارد گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کردی یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا میں شاکر کا سر بالوں سے پکڑ کر ہٹانا چاہا تو اس نے خود کو چھڑا کر پھر اپنا کام شروع کردیا پھر اس نے میری ٹانگوں پر کسنگ شروع کردی رانوں پر اس کی زبان اس طرح چل رہی تھی جیسے کوئی تلوار چل رہی ہو میں نیچے سے گیلی ہورہی تھی آج کئی مہینوں کے بعد میں سکیس کررہی تھی اور وہ بھی ایسے طریقے کے ساتھ جو پہلے کبھی میں نے سنا بھی نہیں تھا اب شاکر میری پنڈلیوں پر کسنگ کررہا تھا پھر اس نے میرے پاﺅں کے انگوٹھے اپنے منہ میں لے لئے میرے پوری جسم میں کرنٹ دوڑ رہا تھا میں بس بس بس ہی کہہ رہی تھی مگر وہ مسلسل اپنے کام میں جٹا ہوا تھاتھوڑی دیر کسنگ کے بعد وہ پیچھے ہوگیا اور گھٹنوں کے بل بیڈ پر بیٹھ گیا اور اپنا انڈر ویئر اتار لگا میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی جیسے ہی اس کا انڈر ویئر اترا اور اس کا موٹا تازہ اور لمبا لن باہر آیا اور میری حیرت سے آنکھیں پھٹ گئیں کم از کم سات آٹھ انچ کا ہوگا
کیا تمام پنجابیوں کے لن اتنے لمبے ہی ہوتے ہیں ( اس کا لن دیکھتے ہی میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا)
شاکر ہنسنے لگا اور اس نے کوئی جو اب نہ دیا وہ میری ٹانگوں کے درمیان میں آگیا اور میری ٹانگیں اپنے کوہلوں پر رکھ کر اپنے لن کو میری پھدی کے ساتھ رگڑنے لگا میں مزے کی ایک نئی دنیا میں پہنچ چکی تھی اور جلد از جلد اس کی انتہا کو پہنچنا چاہتی تھی اس نے اپنا لن میری پھدی پر رکھا اور جھٹکا دے کر اندر کیا جھٹکے سے لن میری پھدی میں چلا گیا اور لن موٹا ہونے کی وجہ سے مجھے تھوڑی سی تکلیف بھی ہوئی میں سمجھی سارا لن اندر چلا گیا ہوگا مگر چند لمحوں کے بعد اس نے ایک اور جھٹکا دیا اور میرے منہ سے چیخ نکل گئی اب اس کا سارا لن میری پھدی میں چلا گیا تھا درد کے مارے میری جان نکل رہی تھی مظفر کا لن شاکر کے مقابلے میں آدھ ہی ہوگا اور موٹا بھی اتنا نہیں ہوگا آج پہلی بار اتنا بڑا اور موٹا لن لینے سے مجھے بہت تکلیف ہورہی تھی لیکن مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ یہ تکلیف دو چار منٹ کی ہے شاکر نے جھٹکے دینا شروع کئے تو میں نے اس سے کہا کہ مجھے تکلیف ہورہی ہے تھوڑی دیر رک جاﺅ وہ رک گیا اور میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگا اب مجھے اپنی سہاگ رات یاد آگئی جب مظفر نے پہلی بار کیا تو مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی میں نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی بات نہ سنی تھی اور میرے تڑپنے کے باوجود کام جاری رکھا تھا اس کے برعکس شاکر کافی کواپریٹو تھا اس نے میری تکلیف پر خود کو روک لیا تھا چند منٹ کے بعد اس نے آہستہ آہستہ سے اپنا لن اندر باہر کرنا شروع کیا پھر رک کر پوچھنے لگا کہ اب تو تکلیف نہیں ہورہی میں اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی میں نے کہا کہ نہیں تو اس نے آہستہ آہستہ سے اندر باہر کرنا شروع کردیا پھر بتدریج جھٹکے تیز کرنے لگا میں مزے کی ایک نئی دنیا میں پہنچ چکی تھی چند منٹ بعد میں فارغ ہو گئی مگر شاکر ابھی تک اسی سپیڈ کے ساتھ لگا ہوا تھا میں اس کے ساتھ مزے لے رہی تھی قریباً پچیس منٹ تک وہ جھٹکے مارنے کے بعد فارغ ہونے لگا تو مجھ سے پوچھا کہ اندر ہی چھوٹ جاﺅں میں نے اثبات میں سر ہلاتو وہ اندر ہی چھوٹ گیااس دوران میں تین بار فارغ ہوئی تھی اس کی منی سے میری پھدی بھر گئی مظفر کے لن سے کبھی بھی اتنی منی نہیں نکلی تھی فارغ ہونے کے بعد وہ میرے اوپر ہی لیٹ گیا اور میرا منہ چومنے لگا میں بھی اس کا بھرپور طریقے سے ساتھ دے رہی تھی کچھ دیر لیٹے رہنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ کچھ کھانا پینا ہے تو میں نے انکار میں سر ہلا دیا لیکن وہ اٹھا اور ننگا ہی کمرے سے باہر نکل گیا میں بیڈ سے اٹھی اور کپڑے پہننے لگی تو میں نے دیکھا کہ بیڈ شیٹ میری پھدی سے نکلنے والے مادے اور خون کے چند قطروں سے بھر گئی تھی ابھی میں کپڑے پہننے ہی لگی تھی کہ شاکر ہاتھ میں جوس کے دو گلاس پکڑے اندر آگیا اور مجھے کپڑے پہننے سے منع کردیا اور کہا کہ پہلے یہ جوس پیﺅ پھر ایک اور شفٹ لگا کر اکٹھے نہائیں گے پھر تم کپڑے پہننا میں نے خاموشی سے اس کے ہاتھ سے جوس لیا اور بیٹھ کر پینے لگی اس دوران شاکر نے مجھ سے پوچھا کہ سچ سچ بتاﺅ تم کو مزہ آیا ہے کہ نہیں میں خاموش رہی مجھے کافی شرم آرہی تھی اس نے دو تین بار پھر پوچھا تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا کتنا تو میں نے شرم سے سر نیچے کر دیا پھر کہنے لگا کہ بتاﺅ نہ
میں نے سر نیچے کئے رکھا اور آہستہ سے کہا کہ بہت
شاکر کھلکھلا کر ہنس پڑا اور کہا کہ اب کس سے شرما رہی ہو کھل کر بات کرو لیکن میں مسلسل اپنی نظریں نیچے کئے ہوئے تھی شاکر مسلسل میرے ساتھ باتیں کررہا تھا اور میں اپنی نظریں نیچے کئے ہوئے ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی جوس پی کر وہ پھر سے مجھے کسنگ کرنے لگا اب میں بھی پہلے سے زیادہ جوش دکھا رہی تھی پھر اچانک رک کر کہنے لگا پہلے سب کچھ میں نے کیا اب تم اپنی مرضی کے ساتھ کرو میں کچھ بھی نہیں کروں گا
میں کیا کروں
جو میں نے کیا ہے (اس سے پہلے مظفر ہی سب کچھ کرتے تھے میں نے کبھی بھی کچھ نہیں کیا تھا )
مجھے کچھ نہیں آتا
کیوں نہیں آتا تم کرو خود ہی ہوجائے گا یہ کہتے ہوئے وہ بیڈ پر لیٹ گیا اور مجھے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا میں اس کے اوپر لیٹ گئی مگر کیا کروں کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا اس نے مجھے کہا کرو نہ میں نے کہا کہ کیا کروں مجھے شرم آرہی ہے تو کہنے لگا کہ شروع میں کردیتا ہو ں اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہوں تمہارے دل میں جو آئے کرتی جاﺅ
اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور مجھے کسنگ کرنے لگا پھر اس نے کسنگ کرنی بند کردی اور میں اس کے ہونٹ چوسنے لگی پھر اس کے کانوں گردن اور پیٹ کے بعد ناف پر اپنی زبان پھیری تو اس کے منہ سے سسکاری نکل گئی میں نے اپنا کام جاری رکھا اور اس کی ٹانگوں پر کسنگ کرنے لگی پھر اس نے پکڑ کر مجھے اوپر کیا اور کہا کہ اب لن کو اپنے اندر لے لو یہ پہلی بار میں لن کے اوپر بیٹھ رہی تھی میں اس کے لن پر بیٹھی تو اندر نہیں جارہا تھا میں نے آہستہ آہستہ کرکے اس کو اندر کیا تو وہ میری پھدی کی گہرائیوں تک اتر گیا اب میں خود بخود اس کے اوپر نیچے ہونے لگی مجھے پہلے سے بھی زیادہ مزا آرہا تھا تھوڑی دیر کے بعد میں فارغ ہوگئی اور میری پھدی کے پانی سے اس کی ٹانگیں اور پیٹ گیلاہوگیا میں اس پانی کو صاف کرنے کے لئے اوپر سے اترنے لگی تو اس نے منع کردیا اور کام جاری رکھنے کو کہا دس پندرہ منٹ اوپر نیچے ہونے کے بعد میں تھک گئی مگر مزہ اتنا زیادہ تھا کہ بس کرنے کو دل نہیں کررہا تھا میں مسلسل کئے جارہی تھی اور وہ اپنی آنکھیں بند کئے نیچے لیٹا ہوا تھا اس نے اپنی زبان اپنے دانتوں کے نیچے لے رکھی تھی اور دونوں ہاتھوں سے میری مموں کو مسل رہا تھا وہ جس وقت بھی میرے نپل کو اپنی انگلیوں میں لیتا میری آہ نکل جاتی اب وہ فارغ ہونے والا تھا اس نے مجھے پھر کہا کہ اندر یا باہر مگر میں اس کی بات ان سنی کر کے لگی رہی وہ پھر فارغ ہوگیا اب کی بار تقریباً تین منٹ تک اس کا لن منی چھوڑتا رہا میں پوری طرح نڈھال ہوچکی تھی اور میرا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا میں اس کے اوپر ہی ڈھیر ہوگئی اس نے مجھے اپنی باہوں میں جکڑ لیا تھا اور مجھے مسلسل چوم چاٹ رہا تھا جبکہ مظفر جب بھی میرے ساتھ کرتے تھے فارغ ہوتے ہی آنکھیں بند کر کے سوجاتے تھے انہوں نے کبھی یہ بھی نہیں پوچھا کہ میں بھی مکمل ہوئی ہوں یا نہیں جبکہ اس کے برعکس شاکر مجھے بار بار پوچھ رہے تھے اور فارغ ہونے کے بعد بھی مجھ کو کسنگ کررہے تھے جس کا مجھے بہت مزہ آرہا تھا کچھ دیر بعد میں اس کے اوپر سے اٹھی تو اس نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑا کپڑا اٹھا کر مجھے دیا اور کہنے لگا کہ اس سے خود کو صاف کرلومیں نے لیٹے لیٹے خود کو اور پھر شاکر کو صاف کیا اور اٹھنے لگی تو اس نے پھر مجھے پکڑ کر ساتھ لٹا لیا اور کہنے لگا کہ ابھی کدھر لیٹی رہو کچھ آرام کرومیں پھر لیٹ گئی اس نے مجھ سے باتیں کرنا شروع کردیں میں کافی حد تک ریلیکس تھی اور اب مجھے شرم بھی نہیں آرہی تھی میں نے بھی اس کے ساتھ باتیں کیں اس موقع پر کئی موضوعات پر گفتگو ہوئی تقریباً ایک گھنٹہ لیٹنے کے بعد اس نے مجھے اٹھایا اور بازو سے پکڑ کر کمرے کے ساتھ ہی اٹیچ باتھ روم میں لے گیا اور شاور کھول دیا ٹھنڈا ٹھنڈا پانی جسم پر پڑا تو مجھے کپکپی آگئی اس نے ایک بار پھر مجھے اپنی باہوں میں جکڑ لیا پھر تھوڑی دیر بعد صابن پکڑ کر میرے جسم پر لگانے لگا پھر میں نے خود ہی اس کے کہنے کے بغیر ہی اس سے صابن پکڑ کر اس کے جسم پر ملا اور پھر پندرہ منٹ تک شاور لیتے رہے اور پھر دونوں نے ٹاول سے ایک دوسرے کو خشک کیا اور دونوں ننگے ہی باہر آگئے اس نے میرا بریزیئر پکڑ کر مجھے دیا اور پھر اس کے ہک خود ہی بند کئے پھر شلوار اور قمیص پہننے میں میری مدد کی اس کے بعد خود کپڑے پہن کر مجھے ڈرائنگ روم میں لے آیا اور خود کچن میں چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد ہاتھ میں ایک پلیٹ اور چند روٹیاں پکڑے آگیا پلیٹ میں دال تھی ہم دونوں نے مل کر دال کھائی اور پھر باتیں کرنے لگے اب اس نے مجھے پوچھا کہ اب بتاﺅ مظفر کا تبادلہ کہاں کرانا ہے میں نے جواب دیا جو آپ کی مرضی آپ کریں میں کچھ نہیں کہوں گی وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا کہ دل تو نہیں چاہتا کہ تمہارے شوہر کا تبادلہ کراﺅں مگر اگر تم کہو تو سب کچھ کروں گا مگر میں چاہتا ہوں کہ ساری زندگی تم میرے پاس رہو اگر ایسا نہیں کرسکتی تو کم از کم کچھ دن اور مجھے اپنی قربت میں رہنے دو میں خاموش رہی پھر کہنے لگا کہ اب گھر جانا ہے یا مزید کچھ دیر ٹھہرنا ہے میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو ڈیڑھ بج رہا تھا میں نے کہا جلدی سے گھر چھوڑ آﺅ بچے بھی آنے والے ہوں گے اس نے گاڑی نکالی اور مجھے گھر چھوڑ آیا راستے میں کہنے لگا کہ کل پھر آجاﺅ میں نے کہا سوچوں گی تو کہنے لگا کہ رات کو فون پر بتا دینا شام کو ساڑھے پانچ بجے کے قریب مظفر گھر آئے اور آتے ہی میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگے جیسے مجھ میں کچھ ڈھونڈ رہے ہوں لیکن بولے کچھ نہیں رات کو کھانے کے بعد لیٹے تو پوچھنے لگے کیا بنا میں نے جواب دیا کہ میں اس کے گھر گئی تھی تو کہنے لگے پھر میں نے کہا اس نے جو کرنا تھا کرلیا تو کرید کر کہنے لگے کیا کیا اور کیسے کیا میں خاموش رہی اور اس کے بارے میں سوچنے لگی کہ کیسے بے غیرتوں کی طرح پوچھ رہا ہے بار بار پوچھنے پر بھی میں خاموش رہی تو غصہ ہو گئے میں بھی جواباً غصے میں آگئی اور کہا کہ جس کام کے لئے بھیجا تھا اس نے وہی کام کیا ہے میرا غصہ دیکھ کر خاموش ہوگیا اس سے پہلے کبھی میں نے ان کے ساتھ غصہ میں بات نہیں کی تھی غصہ تو دور کی بات میں نے کبھی ان کو ایسے محسوس بھی نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ جو پوچھ رہے ہیں میں وہ ان کو نہیں بتانا چاہتی مگر آج میں ان کے سامنے ان کے مقابلے میں جواب دے رہی تھی اور وہ بھی ان کے لہجے سے بھی زیادہ سخت لہجے میں مگر وہ ڈھیٹوںاور بے غیرتوں کی طرح بات سن گیا پھر کہنے لگا میرے تبادلے کا کیا بنا میں نے جواب دیا کہ اس نے کہا ہے کہ ابھی مزید کچھ دن اور اس کے ساتھ یہی کام کرنا پڑے گا تو اونچی آواز میں گالیاں دینے لگا اور کہنے لگا کہ سالا کتا حرامی تم آئندہ اس کے پاس نہیں جاﺅ گی میں خاموش ہوگئی تو کچھ دیر بعد خود بھی خاموش ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد بولا اب کس دن آنے کو بولا ہے میں نے جواب دیا کہ کل تو کچھ سوچ کر بولا کہ ٹھیک ہے چلی جانا مگر اس کو کہو کہ جلدی سے جلدی کام کردے اس کام کو لٹکنا نہیں چاہئے میں خاموش ہوگئی پھر میں نے مظفر کا فون لے کر شاکر کو فون کیا اور اگلے دن کے پروگرام کے بارے میں بتایا تو خوش ہوگیا اب میرا انگ انگ دکھ رہا تھا مجھے بھرپور نیند آئی رات کو ایک بار مظفر نے مجھے ہلایا اور سیکس کے لئے کہا تو میں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور خود دوسری طرف ہوکر لیٹ گئی مظفر نے بھی دوبارہ مجھے ڈسٹرب نہیں کیا اگلی صبح پھر مظفر ناشتہ کئے بغیر ہی جلدی چلے گئے اور شاکر پروگرام کے مطابق مجھے ساڑھے نو بجے مجھے لینے آگئے اس دن انہوں نے مجھ سے ایک اور انداز کے ساتھ سیکس کیا جس کو میں نے بہت زیادہ انجوائے کیا اس دن سیکس سے فارغ ہوکر اس کو مظفر کی رات والی گفتگو سنائی تو ہنسنے لگا اور کہا کہ وہ بے غیرت ہے تم کو روک نہیں سکتا اس دن شاکر نے جاتے ہوئے مجھے ہزار ہزار والے دو نوٹ بھی دئےے اور کہا کہ یہ نوٹ مظفر کو دے دوں میں نے پہلے انکار کردیا پھر اس کے اصرار پر پکڑ لئے ہدایت کے مطابق میں نے یہ نوٹ مظفر کو دیئے تو اس نے ہچکچاتے ہوئے پکڑ لئے اس رات بھی مظفر کا دل شائد کچھ کرنے کو کر رہا تھا مگر میں سو گئی اس کے بعد دوسرے تیسرے دن میں شاکر سے ملتی رہی پہلے ایک آدھ بار مظفر نے مجھے تبادلہ جلدی کرانے کے لئے کہا مگر ہر بار میں اسے شاکر کی طرف سے دیئے گئے ہزار کبھی دو ہزار کبھی پانچ سو روپے دے دیتی اور وہ اس کو پکڑ کر جیب میں ڈال لیتا پھر آہستہ آہستہ اس نے تبادلے کے متعلق پوچھنا بند کردیا ایک سال ایسے ہی گزر گیا کہ اچانک ایک روز مظفر نے گھر آکر کہا کہ میرا کراچی تبادلہ ہوگیا ہے میں بہت افسردہ ہوئی میں اب شاکر کو ملے بغیر رہ نہیں سکتی تھی میں اس کی عادی ہو گئی تھی وہ ہر بار کسی نئے انداز کے ساتھ سیکس کرتا تھا میں نے جان بوجھ کر ہی کہا اچھا ہوا شاکر سے بھی جان چھوٹ جائے گی تو جواب میں مظفر نے کہا کہ نہیں روزینہ نہیں اب ہم لوگ یہاں سیٹل ہوچکے ہیں کہیں اور جاکر پتہ نہیں کیسے حالات ہوں تم شاکر سے کہو کچھ کرے میں نے شاکر سے کہا تو ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ یہ آرڈر میں نے جان بوجھ کر کرائے تھے تم فکر نہ کرو میں خود بھی ایسا نہیں چاہتا اس کے اگلے روز ہی مظفر خوشی خوشی گھر آیا اور کہنے لگا کہ تم بہت اچھی ہو شاکر سے کہہ کر میرا تبادلہ رکوا دیا اب بھی ہفتے میں دو بار شاکر کے ساتھ ضرور ملتی ہوں اس سے میری ” ضرورت“ بھی پوری ہوجاتی ہے اور میرے شوہر کو کچھ رقم بھی مل جاتی ہے کبھی کبھی جب شاکر مصروف ہوں یا لاہور میں نہ ہوں تو میں مظفر کے سامنے ان کے ساتھ موبائل پر لمبی لمبی گفتگو کرتی ہوں جبکہ مظفر کمرے سے نکل جاتا ہے اگر کبھی مظفر کی موجودگی میں شاکر گھر آجائے تو وہ شاکر کو بٹھا کر کسی بہانے سے باہر چلے جاتے ہیں
میں شاکر کی بہت شکر گزار ہوں ان کی وجہ سے مجھے نئے نئے مزے کرنے کا موقع ملتا ہے اور آج تک شاکر نے کبھی مجھے بلیک میل کرنے یا مجھ پر دھونس جمانے کی بھی کوشش نہیں کی جب کبھی میرا سیکس کو دل نہ کرے تو شاکر میرے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرتا مجھے شاکر کی دوسری کئی لڑکیوں کے ساتھ معاملات کا بھی معلوم ہے لیکن میں نے اس کو کبھی منع نہیں کیا ایک بار میرا دل کیا کہ میں مظفر سے طلاق لے کر شاکر سے شادی کرلوں یہ بات میں نے شاکر سے کی تو اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرسکتا اس لئے میں طلاق نہ لوں اس کی اس بات کا مجھے دکھ تو بہت ہوا لیکن بعد میں میں بھی سمجھ گئی کہ طلاق کے میرے بچوں اور خاندان میں کیا اثرات ہوں گے
باجی فرزانہ اور ریحانہ
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بی اے کر کے فارغ تھا سارا دن دوستو کے ساتھ بیٹھ کے گپیں مارنا اور مختلف لڑکیوں کے بارے میں کومنٹس پاس کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ تھا. اور اکثر یہ محفلیں کسی سیکسی مووی پے ہی جا کے ختم ہوتی تھیں . اور سونے پے سہاگہ یہ کے جو فارغ وقت ملتا تھا وہ جم میں گزرتا تھا . ورزش کر کر کے میں نے اپنے آپ کو کافی متناسب بنا لیا تھا
گھر والوں کو میرا یہ چال چلن ایک آنکھ نہی بھاتا تھا . ابا حضور نے کچھ دن تو ایسے ہی برداشت کیا اور پھر ایک دن مری پیشی ہو گئی.
کیوں میاں کچھ کام وام کرنے کا بھی ارادہ ہے یا نہیں .
میں نے عرض کی جی میں نے بہت کوشش کی ہے مگر کوئی نوکری دینے پہ آمادہ نظر نہی آتا .
ابّا حضور نے ٹی شرٹ میں جھانکتے میرے بازوؤں کو دیکھتے ہووے کہا تمہاری کوشش تو نظر آرہی ہے برخور دار .
تمھارے تایا جان سے بات کی ہے میں نے. تم اس سوموار کو لاہور جا رہے ہو . تیاری پکڑو اور ہاں دھیان رکھنا کوئی ایسی ویسی حرکت نہ ہو جس سے انھیں شکایات کا موقع ملے.
یہاں تایا جان کا تعارف کرواتا چلوں . میرے تایا جان ساٹھ سال کے سوبر سے بزرگ ہیں . نہایت ہی نرم طبیعت اور حلیم انسان ہیں جتنے حلیم مرے تایا جان ہیں اتنی ہی حلیم انکی بیگم ہیں. انکی پلاسٹک کے برتن بنانے کی ایک بڑی سی فیکٹری ہے. مگر وہ اولاد سے محروم ہیں. میری تائی جان کی ایک بہن کے خاوند کا انکی جوانی میں انتقال ہو گیا تھا انکی دو بیٹیاں بھی تھی. انھوں نے دوسری شادی کی تو اپنی دونوں بیٹیاں تایا جان کو دے دیں.
بڑی بیٹی کا نام فرزانہ اور چھوٹی کا نام ریحانہ تھا. فرزانہ کی عمر پچیس سال اور ریحانہ کی عمر بائس سال تھی. میں نے دونوں کو بہت چھوٹی عمر میں ہی دیکھا ہوا تھا.
خیر مجھ میں اتنی مجال نہ تھی کہ میں ابّا حضور کے حکم کی خلاف ورزی کر سکتا . لہذا میں نے آگلے دن اپنا سامان باندھا اور لاہور کے لئے نکل پڑا. تایا جان کا گھر بہت ہی خوبصورت تھا . نیچے ایک بہت بڑا ٹی وی لا ونچ کچن اور دو کمرے تھے . ایک بیڈروم تایا جان کے استعمال میں تھا اور دوسرا مجہے عنایات کر دیا گیا . اوپر بھی دو بیڈروم تھے وو دونوں فرزانہ اور ریحانہ کے استعمال میں تھے. تائی جان نے مجہے میرا کمرہ دکھایا اور حال احوال پوچھا. شام ہو چکی تھی .
تائی جان نے کہا زاہد تم نہا کر فریش ہو جاؤ تو کھانے کے لئے باہر آجانا . میں فریش ہو کے کھانے کی میز پر پوہنچا تو پہلی دفعہ میں نے اپنے دل میں ابّا جی کو خراج تحسین پیش کیا . فرزانہ اور ریحانہ کو دیکھ کر میری آنکھیں کھلی رہ گئی .
دونوں بہنیں لازوال حسن کی مالک تھیں. فرق صرف اتنا تھا کے فرزانہ کی اپنی عمر کی وجہ سے کچھ پختہ نقوش کی مالک تھی جبکے ریحانہ ایک ابھرتی ہوئی کلی تھی.
فرزانہ کی بڑی آنکھیں اسکی حسن میں اضافہ کر رہی تھی . اسکی آنکھو کی گہرائی کسی بھی جوان دل کو بھٹکانے کے لئے کافی تھی. جبکے اس کے برعکس ریحانہ کی آنکھوں میں شوخی بھری تھی اور ویسی ہی شوخی اسکے چہرے کے نقوش میں بھی واضح تھی. فرزانہ کے ہونٹ رس بھرے اور خوب لال تھے لگتا تھا ابھی ان سے رس ٹپکنے لگے گا . جبکے ریحانہ کے ہونٹ پتلے مگرپھولوں کی طرح نازک تھے .
فرزانہ کا قد نسبتاً چھوٹا تھا جس کی وجہ سے اسکی ابھری ہوئی چھاتی اسکے حسن میں اضافہ کر رہی تھی . اسکے مخروطی ابھار کپڑوں سے باہر نکلنے کو بے تاب تھے . میرے تجربے کے مطابق اسکی چھٹی کا سائز چھتیس تھا . جبکے ریحانہ کے کے مموں کا سائز چونتیس تھا.
چونکہ وہ دونوں بیٹھی ہوئی تھی اس لئے میں نیچے کا دھڑ نہی دیکھ پایا تھا مگر مجہے یقین تھا وہ میری امیدوں پر پوری اتریں گی . میرے اس طرح گھورنے پر فرزانہ نے خوب برا منایا اور ہلکا سا کھانسی اور مجہے گھورا. تو مجہے احساس ہوا کے میں تائی جان کو تو بلکل فراموش کر گیا تھا میں نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی . تائی جان نے میرا ان دونوں سے تعارف کروایا .
بیٹا یہ زاہد ہے . تمھارے انکل عابد کا بیٹا اور یہ اب تمھارے ابو کی فیکٹری میں ان کے ساتھ کام کرے گا . اور زاہد بیٹا یہ تمہاری بہنیں ہیں فرزانہ اور ریحانہ .
فرزانہ نے تعارف کے باوجود مجھ سے بات کرتا گوارا نہی کیا جس سے مجہے اندازہ ہوا کے محترمہ کے مزاج آسمانوں سے باتیں کرتے ہیں . ریحانہ نے مجہے سلام کرنے کے بعد نہایت اچھے انداز میں مجھ سے چند رسمی باتیں کی . اور یوں ہماری پہلی ملاقات کا اختتام ہوا .
دن پر لگا کر گزرتے رہے . اور میں آہستہ آہستہ وہاں کے ماحول کا عادی ہوتا چلا گیا . فرزانہ کا رویہ مجھ سے کبھی بھی اچھا نہی رہا . مجہے اس سے بات کرتے ہوۓ بھی ڈر لگتا تھا . وہ بات بات پے کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی اور میں یہ سوچنے پر مجبور تھا کے اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسلہ ضرور ہے . جبکے رہنا اتنی ہی شائستہ تھی یہی وجہ تھی کے میرے خیالات میں ہمیشہ ہی وہ میری سکس پارٹنر بنتی تھی میں نجانے کتنی دفع اسے سوچ سوچ کے مٹھ مار چکا تھا .
ایک دن صبح میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تو حیران ہوا کے صبح صبح مجہے کون جگانے آگیا . دروازہ کھولا توریحانہ سامنے کھڑی تھی . میرا لن جو کے پھلے ہی صبح کے وقت کی وجہ سے کھڑا کچھ اور اکڑگیا . ریحانہ کے ہاتھ میں تولیہ تھا .
زاہد بھائی میں اپکا واش روم استعمال کر لوں میرے کمرے میں گرم پانی نہی آرہا . میں نے بنا کچھ کہے راستہ چھوڑ دیا . ریحانہ نے ایک نائٹی پھنی ہوئی تھی . جبکے نچلا حصہ خلا تھا . اور کی گوری ٹانگیں دیکھ کے مری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی.
اسکی سڈول گانڈ اور لچکتے ہوے کولھے مرے دل کی دھڑکن کو تیز کر رہے تھے اسکی رانوں پر ذرا بھی فالتو چربی نہی تھی لگتا تھا جیسے اسے کسی سانچے میں ڈھال کر بنایا گیا ہو . ریحانہ سیدھی واش روم کی جانب گئی اور پھر مجہے تھوڑی ہی دیر میں شا ور کی آواز آنے لگی . نجانے کیوں میرے دل ایک خواہش جاگی کے میں ریحانہ کو ننگا دیکھوں . میں جلدی سے آگے بڑھا اور واش روم کے کی ہول سے آنکھ لگا دی . وہ کیا حسین منظر تھا . مجہے ریحانہ کی حسین اور خوبصورت گانڈ نظر آرہی تھی جس پہ سے پانی ایسے گزر رہا تھا جیسے دشوار گزر گھاٹیوں سے کوئی میٹھے پانی کا چشمہ. میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کے کاش میں اسی وقت ریحانہ کی گانڈ پر سے گزرنے والی پانی کو منہ لگا کر پی جاؤں . اس حسین منظر کو دیکھ کر میرا لن لوہے کی طرح اکڑ گیا تھا . اور مجہے مجبوراً اپنے پاجامے میں ہاتھ دل کر اسے سہلانا پڑا. میرے منہ کی طرح مرے لن کی ٹوپی بھی پانی سے بھری ہوئی تھی. مرے دل سے نے آواز لگائی کے کیا ہی اچھا ہو اگر مجہے ریحانہ ہی چوت دیکھنے کا موقع بھی مل جائے . مگر ریحانہ شاور کی طرف ہی منہ کر کے نہاتی رہی . میں نے جوش اور مزے کی کیفیت کو بڑھانے کے لئے اپنے لن کو پاجامے سے باہر نکل لیا اور مٹھ مارنے لگا. آہ کیا منظر تھا میں اپنی بہن کی سڈول گانڈ دیکھ کر مٹھ مار رہا تھا . میں مزے کے عروج پے تھا . کے اچانک میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور فرزانہ اندر آگئی . میں جوش میں دروازہ لاک کرنا ہی بھول گیا تھا . میرا ہاتھ جو کے میرے لن پر آگے پیچھے تیزی سے گھوم رہا تھا اچانک رک گیا . فرزانہ کی آنکھوں میں مجہے پھلے حیرت اور پھر غصہ نظر آنے لگا .اسے حیرت مرے لن کو دیکھ کر ہوئی اور پھر غصہ مری حالت دیکھ کر . اسے دیکھتے ہی سمجھننے میں دیر نھی لگی کے واش روم میں کون ہوگا . میری شرمندگی کی کوئی انتہا نہی تھی . مجہے سمجھ نہی آرہا تھا کے میں کہاں چھپ جاؤں . میں نے جلدی سے اپنے لن کو واپس اپنے پاجامے میں ڈالا اور کھڑا ہو گیا . ابھی میں کچھ کہنے والا ہی تھا کی واش روم کا دروازہ کھلا اور ریحانہ باہر نکلی . وہ فرزانہ کو دیکھ کر حیران ہوئی اور پوچھا فرزانہ تم یہاں کیا کر رہی ہو . تو فرزانہ نے جواب دیا .
یار مرے کمرے میں گرم پانی نھی آرہا تھا تو سوچا نیچے جا کے نہا لوں . ریحانہ اسکے جواب سے مطمئن ہو کے باہر نکل گئی . اب کمرے میں صرف میں اور فرزانہ تھے . فرزانہ مجہے مسلسل گھور رہی تھی اور شرم سے پانی پانی تھا . فرزانہ نے مجہے غصے سے کہا تمہیں تو میں بعد میں دیکھتی ہو . اور یہ کہ کر وہ بھی واش روم میں نہانے چلی گئی . میں بے دم ہو کر بیڈ پر بیٹھ گیا . دل اتنی زور سے دھڑک رہاتھا جیسے ابھی سینے سے باہر آجاے گا .
پتا نھی کتنی دیر لگی فرزانہ کو نہانے میں . بس مجہے یہ علم ہے کے ایک ایک لمحہ مجھ پر پہاڑ بن کر ٹوٹ رہا تھا نجانے میرے ساتھ کیا حشر کیا جائے گا . فرزانہ سے مجہے کسی قسم کی بھلے کی امید نھی تھی . مجہے لگا جیسے آج میرا اس گھر میں آخری دن ہے . جیسے ہی فرزانہ نہا کر نکلی میں نے اسے پکارا فرزانہ باجی پلیز مری بات تو سنیں . فرزانہ باجی نے غصے سے کہا اپنی بکواس بند کرو گھٹیا انسان . وہ بہن تھی تمہاری کچھ تو شرم کی ہوتی . ابھی میں جلدی میں ہوں تمہیں میں بعد میں دیکھتی ہوں . تمہیں اس حرکت کی سزا ضرور ملے گی .
میں بے دلی سے بیڈ پے لیٹ گیا . میرا فیکٹری جا نے کا بلکل دل نہی کر رہا . کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد میں نے ہمت کی اور نہا کے بنا ناشتے کے آفس چل پڑا میرے لئے دن کاٹنا عذاب بن گیا دل میں عجیب عجیب خیالات آتے رہے . شام کو دیر سے گھر آیا تو آنٹی سے ملاقات ہو گئی . انھوں نے حسب عادت کھانے کا پوچھا میں نےانکار کر دیا . مگر انکے انداز سے ہرگز نہی لگ رہا تھا کے کوئی غیر معمولی بات ہوئی ہے . یعنی فرزانہ نے اپنی زبان بند رکھی ہے . میں چپ چاپ اپنے کمرے میں آگیا . آج کسی چیز میں دل نہی لگ رہا تھا . بے چینی تھی کے ختم ہونے کا نام نہی لے رہی تھی . تقریباً ١١ بجے مرے کمرے پے دستک ہوئی میں نے چونک کے دروازہ کھولا تو سامنے ریحانہ اور فرزانہ دونوں موجود تھیں . فرزانہ نے مجہے کہا آگے سے ہٹو . میں ایک شریف بچے کی طرح سامنے سے ہٹ گیا .
وہ دونوں اندر آگئی فرزانہ بیڈ پے بیٹھ گئی جبکے ریحانہ نے کمرے میں پڑی کرسی پر قبضہ کر لیا . جبکے میں ان دونوں کے درمیان کھڑا تھا . فرزانہ نے کمرہ بند کر لیا .
زاہد بتاؤ ریحانہ کو کے تم صبح کیا کر رہے تھے جب ریحانہ تمھارے واش روم میں نہا رہی تھی .
میں نے پریشان ہو کر فرزانہ کی طرف دیکھا تو اس نے غصہ سے مری طرف دیکھا اور پھر دوہرایا تمہیں مری بات سمجھ نہی آ رہی شاید .
بتاؤ اسے کے تمہیں کیا کر رہے تھے ورنہ میں ابھی ممی اور پاپا کو بتاتی ہو . مری حالت ایسے تھی جسیے میں ابھی غش کھا کر گر پڑو گا .
معاف کر دیں فرزانہ باجی مجھ سے غلطی ہو گئی . دیکھیں میں کان پکڑتا ہو مگر آپ کسی کو مت بتایے گا یہ بات .
ایسے تمہیں معافی نہی ملے گی زاہد . جو کہا جا رہا ہے وہ کرو زیادہ بہتر ہوگا . بتاؤ تم کیا کر رہے تھے صبح .
دیکھیں فرزانہ باجی میں آپکے پاوں پکڑتا ہوں ایسے نہ کریں . میں آیندہ کبھی ایسا نہی کرونگا .
فرزانہ نے ریحانہ کی طرف دیکھتے ہووے کہا لگتا ہے ہمیں چلنا چاہیے اب یہ بات ممی کو بتا ہی دیں تو اچھا ہے یہ کہ کر وہ بیڈ سے اٹھی تو میں نے جلدی سے کہا نہی پلیز میں بتاتا ہوں .
میں نے ہمت کی اور کہا میں صبح ریحانہ باجی کو نہاتے ہووے دیکھ رہا تھا .
تو کیا دیکھا مرے بھائی نے . چلو بتاؤ .
یہ فرمائش پچھلی سے زیادہ خطرناک تھی مجہے سمجھ نہی آرہا تھا کے میں کہاں جا کے چھپ جاوں. میں نے پھر کوشش کی کے فرزانہ باجی اپنے ارادے سے باز آجائیں مگر وہ اپنی کمینگی آج پوری طرح دکھانے پر آمادہ تھیں .
میں نے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا . تو فرزانہ باجی نے کہا ٹھیک ہے ایک چونکے تم نے ریحانہ کو ننگا دیکھا ہے اس لئے ریحانہ بھی تمہیں ننگا دیکھنے گی . میں نے ریحانہ کی طرف دیکھا تو اس نے شرم سے اپنی آنکھیں نیچی کر لیں . یہ فرمائش مجھ پر بجلی بن کر گری . اچانک کسی کو ننگا دیکھ لینا یہ کوئی آپکو دیکھ لے وہ الگ بات ہوتی ہے مگر کسی کی فرمائش پر ننگا ہو کے دکھانا وہ بھی اپنی بہنوں کے سامنے بہت مشکل کام تھا . میں ابھی سوچ میں ہی پڑا تھا کہ فرزانہ باجی کی چنگھاڑتی ہوئی آواز مرے کانوں کو سنائی دی . تم اگر کوئی بات ماننے پر راضی نہی تو تمہارا انجام بلکل اچھا نہی ہوگا .
دیکھو ریحانہ اس بہن چود کو اب کتنا غیرت مند بن رہا ہے جب صبح تمہیں نہاتے ہووے دیکھ رہا تو اس وقت اسکی غیرت گھاس کھانے گئی ہوئی تھی .
مجہے اپنے کانوں پر یقین نہی آیا . یہ گالی میں نے فرزانہ باجی کی ہی زبان سے سنی تھی میں ایک شاک کی سی کیفیت میں تھا .
اسکی گانڈ دیکھتنے ہوتے تمہیں کچھ خیال نہ آیا اور جب تمھارے لنڈ دکھانے کی باری ہے تو تمہاری گانڈ پھٹ گئی ہے .
میں ابھی پھلے ہی جملے کے اثر سے باہر نہی آیا تھا کے انکے اگلے الفاظ مجھ سے ایٹم بم بن کر گرے.
مجہے یہ سب کچھ ہضم نہی ہو رہا تھا فرزانہ کا یہ روپ مجھ سے آج تک پوشیدہ تھا مجہے علم نہی تھا کے فرزانہ کی زبان سے ایسے الفاظ بھی نکل سکتے ہیں .
در حقیقت میرے لنڈ میں ہلکی سی جنبش پیدا ہوئی . انکے منہ سے ایسے الفاظ سن کے عجیب سا مزہ آیا . اس وقت میں خوف اور ہلکے سے مزے کی کیفیت میں تھا .
میری حالت عجیب سی تھی . مجہے امید نہی تھی کے حالات یہ رخ بھی اختیار کر سکتے ہیں . میں ابھی انہی سوچوں میں گم تھا کہہ فرزانہ کی چنگھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی . تم اپنی شلوار کھولتے ہو یا , یہ کام بھی مجہے ہی کرنا پڑے گا .
میں کم از کم اس حرکت کی اجازت اسے دینے کے لئے تیار نہی تھا .
میں نے آخری بار رحم طلب نگاہوں سے فرزانہ کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھوں میں ایک شیطانی چمک تھی . میں تقریباً رونے والا تھا.
آخر میں نے مرے مرے انداز میں اپنا ازار بند کھولا اور چھوڑ دیا . احساس شرمندگی سے مری آنکھیں لال ہو چکی تھی . اپنی تایا زاد بہنوں کے سامنے میں ننگا کھڑا تھا .
میں چونکے صرف شلوار اور بنیان میں تھا اور شلوار تو اب اتر چکی تھی . میرے پاس چھپانے کو کچھ بھی نہی تھا. ریحانہ کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے اس نے لنڈ کو پہلی دفعہ دیکھا ہو . میرے جسم کی لرزش واضح تھی . فرزانہ نے ریحانہ سے کہا دیکھ ریحانہ ایسا ہوتا ہے اصل کا لنڈ . اس سارے ڈرامے میں بس میں اور ریحانہ ہی شاید گھبرا رہے تھے مگر فرزانہ کے چہرے پہ کسی قسم کی کوئی جلدی یا پرشانی نہ تھی .
ریحانہ نے فرزانہ سے کہا باجی چلیں اب ، اب تو ہم نے دیکھ لیا نا. چلیں کوئی آ نا جاتے .
فرزانہ نے کہا تم آرام سے بیٹھو میں اسے اتنے آرام سےاسے بخشنے کے لئے تیار نہی ہوں . اور کوئی نہی آنے والا ممی اور پاپا جلدی سونے کے عادی ہیں . ویسے بھی انکا کمرہ یہاں سے بہت دور ہے .
اب ہمارا پیارا بھائی ہمیں مٹھ مار کے دکھا یے گا . چلو زاہد شروع ہو جاؤ.
فرزانہ کی بات سن کر مرے آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا . ان حالات میں جہاں میرا لنڈ ہی کھڑا نہی ہو رہا تھا وہاں مٹھ مارنے کا سوال کیسا ؟
میں نے رونے والے انداز میں کہا یہ نا ممکن ہے باجی . ان حالات میں ایسا کرنا ممکن نہی .
فرزانہ نے کہا حالات مجہے پیدا کرنے آتے ہیں . چلو شاباش لو اسے اپنے ہاتھ میں اور شروع ہو جاؤ .
میں نے اپنے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور تھوڑی دیر ہلایا مگر کوئی اثر نہی ہوا .
میں نے پھر فرزانہ باجی کو کہا . مجھ سے نہی ہوگا یہ سب . آپ پلیز مجہے معاف کر دیں .
فرزانہ باجی نے کہا ٹھیک ہے . چلو ریحانہ چلتے ہیں ممی کو کہہ کے اسے یہاں سے فارغ کروائیں ذرا اسکے گھر والوں کو بھی تو پتا چلےکہ جناب یہاں کیا گل کھلا رہے ہیں .
کمبخت فرزانہ باجی کو بلیک میل کرنے کے سارے گر آتے تھے . جس طرح وہ مجہے ڈیل کر رہی تھی اس سے لگتا تھا کے وہ خاصی تجربے کار ہیں اس طرح کے معاملات میں .
مرتا کیا نہ کرتا . مجہے اندازہ ہو گیا تھا کے مری جان بخشی صرف اسی صورت میں ہو سکتی جب میں وہی کروں جو فرزانہ باجی کہہ رہیں تھی .
میں نے جلدی سے کہا آپ بار بار یہ دھمکیاں مت دیں میں کوشش کرتا ہوں .
فرزانہ باجی نے کہا شاباش میرے بھائی آج ایک اچھا سا شو دکھاؤ ہمیں اور جی خوش کر دو .
میں نے ساری شرم ایک طرف رکھی اور اپنے ہاتھ پہ تھوک لگا کے لنڈ پہ ہاتھ چلانے لگا .
مجہے تو اس وقت اسے کھڑا کرنا ہی سب سے بڑا مسلہ نظر آرہا تھا مٹھ مارنا تو دور کی بات .
یہاں فرزانہ باجی کا تجربہ کام آیا . انھوں نے مجہے پکارا تو بتاؤ مرے بھائی کیا دیکھا صبح ریحانہ کا.
میں نے کوئی جواب نہی دیا .
ابے او بہن چود جواب دے . کیا دیکھا ریحانہ کا بول ننگا دیکھا ریحانہ کو . اسی وقت مرے ذہن میں صبح کا واقعہ تازہ ہو گیا . مرے لنڈ میں تھوڑی سی تحریک پیدا ہوئی .
میں نے ہاں میں سر ہلایا . منہ سے بول کیا منہ میں لنڈ لیا ہوا ہے ؟
فرزانہ باجی کے منہ سے ایسی باتیں سن کر مرا لنڈ تیزی سے سر اٹھا رہا تھا .
میں نے کہا ہاں میں نے ریحانہ باجی کو ننگا دیکھا تھا .
کیا دیکھا تھا اسکی گانڈ ؟ یا چوت
میں نے کہا صرف پچھلا حصہ دیکھا تھا فرزانہ باجی نے کہا یہ پچھلا حصہ کیا ہوتا ہے . گانڈ کہتے ہووے تیری زبان دکھتی ہے .
ہاں باجی میں نے ریحانہ باجی کی گانڈ دیکھی تھی .
اچھا کیسی لگی پھر ہے نہ مست گانڈ تیری بہن کی . میں نے کہا جی ہاں بہت مست ہے .
اور ممے دیکھے تھے ریحانہ کے . میں نے کہا نہی صرف گانڈ اور ٹانگیں دیکھی تھی .
کیوں تھی نہ گوری چٹی ٹانگیں ریحانہ کی ؟
میں نے کہا ہاں بہت سیکسی ٹانگیں تھی ریحانہ باجی کی .
میرا لنڈ اس وقت پورا تن چکا تھا . میں نے یہ بات کہتے ہووے میں نے ریحانہ کی طرف دیکھا تو مری طرف ہی دیکھ رہی تھی اسکا چہرہ شرم اور مزے کیفیت سے لال ہو چکا تھا .
ریحانہ اس وقت ایک لمبی سی نائٹی میں تھی جو کے گھٹنوں سے تھوڑا سے آگے جا کے ختم ہو جاتی تھی . اس نے مزے کی شدت سے اپنی ٹانگ پے ٹانگ رکھی ہوئی تھی .جس سے مجہے لگا کے وہ گیلی ہو چکی ہے . اور اسکی
چوت کے لب اسکی اس حرکت کی وجہ سے ایک دوسرے سر رگڑ کھا ہونگے جس کی وجہ سے وہ مزے کی حالت میں تھی . اس نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں کے درمیان دبایا ہوا تھا .
ماحول نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا مرے لنڈ کی ٹوپی پر بھی چند چمک دار قطرے ابھر چکے تھے .
دیکھ ریحانہ اس گانڈو کے لن سے منی نکلنا شروع ہو گئی ہے . ایسا بہن چود ہے اپنی بہنوں کے بارے میں سوچ سوچ کے گیلا ہو رہا ہے .
فرزانہ باجی کی اس بات نے مجہے پھر یاد دلا دیا میں میں ان حالات میں اپنی خوشی سے یہ سب نہی کر رہا .
مرا دماغ دو حصوں میں بٹ چکا تھا . ایک حصہ کہتا تھا کے لنڈ کی بات مانوں جبکے دوسرا حصہ مجہے شرم دلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا .
جب ذہن بٹا ہو تو یقین کریں مٹھ مارنا بہت ہی مشکل کام ہے . اس کام کے لئے یکسوئی سے سوچنا پڑتا ہے .
میں اسی طرح پانچ منٹ تک ہاتھ ہلاتا رہا مگر منی نہی نکلی . مرا ہاتھ اور لن دونوں درد کر رہے تھے . میں نے تقریباً روتے ہوۓ کہا فرزانہ باجی مجھ سے نہی ہو گا .
مرا خیال تھا کے وہ مری حالات کو سمجھتے ہوۓ مجہے جانے دیں گی . مگر اسکے بلکل برعکس انھوں نے کہا میں دیکھتی ہو میں کیسے نہی نکلتی منی .
بول دیکھے گا ریحانہ کی سیکسی ٹانگیں . فرزانہ باجی اٹھی اور ریحانہ کے پاسس چلی گئی . ریحانہ ایک دم بولی فرزانہ باجی پلیز ایسا نہ کریں . اور اپنی نائٹی کو زور سے پکڑ لیا .
کیا ہو گیا ہے ریحانہ یہ تو پھلے ہی تمہیں ننگا دیکھ چکا ہے اب چھپانے سے فائدہ اور میں کونسا تمہیں ننگا ہونے کو کہہ رہی ہو . تم بس اپنی نائٹی اوپر اٹھاؤ .
فرزانہ کے ارادوں سے لگ رہا تھا کہہ اگر ریحانہ نے نائٹی نہ اٹھائی تو وہ خود اٹھا دے گی . ریحانہ نے اسی طرف بیٹھے بیٹھے اپنی نائٹی تھوڑی اوپر سرکی تو اسکی سیکسی رانیں نظر آنا شروع ہو گئی .
میں نے یہ منظر دیکھا تو مرے لنڈ نے ایک جھٹکا لیا . یہ وہی رانیں ہیں جنھیں میں سوچ سوچ کے مٹھ مارتا تھا . آج میرے سامنے حقیقت کا روپ دھارے موجود تھی .
دیکھ زاہد تیری ریحانہ باجی کی رانیں جنھیں دیکھ کے تم صبح مٹھ مار رہے تھے .
انھوں نے نائٹی کو مزید آگے سرکایا . اب ریحانہ باجی کا سفید انڈر ویر صاف نظر آ سکتا تھا . میرے جسم میں مزے کی لہریں دوڑ رہی تھیں
میرے ہاتھ کی رفتار تیز ہو گئی . جبکے مرا لن مزید گیلا ہوتا چلا گیا . مجہے اس طرح ہاتھ ہلاتے دیکھ کر فرزانہ باجی نے اپنی نائٹی کے اوپر سے اپنے چھتیس کے مموں کو دبانا شروع کر دیا .
یہ منظر بھی میری آنکھوں کے لئے نیا تھا . مرے منہ سے اب مزے کی وجہ سے آوازیں نکل رہی تھی . میرے ہونٹ بلکل خشک تھے. میری آوازوں کو سن کر ریحانہ باجی نے اپنی ٹانگ دوسری ٹانگ سے اٹھائی اور دونوں ٹانگیں کھول کر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی . انکی پینٹی گلی ہو چکی تھی . انکی چوت کی جگہ پہ بڑا سا گیلا دھبہ دور سے ہی نظر آرہا تھا .
جبکے فرزانہ باجی نے اپنی پینٹی میں ہاتھ ڈال لیا تھا اور اپنی چوت میں انگلی ڈال کر ہلانا شروع کر دی تھی .
ساتھ ساتھ انکی گندی باتیں بھی جاری تھی . بول زاہد دودھ پیے گا اپنی بہن کا . چوسے گا میرے ممے .
ہاں پیو کا دودھ باجی . خوب پیوں گا اور چوس چوس کے لال کر دونگا . میں نے آج تک اتنے خوبصورت ممے نہی دیکھے فرزانہ باجی
تو نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے میرے بھائی میں تجھے اس دنیا کی سیر کراؤں گی کے تم یاد رکھو گے .
فرزانہ باجی کے دیکھا دیکھی ریحانہ باجی نے بھی اپنی پینٹی کے اوپر سے ہی اپنی چوت کو سہلانا شروع کر دیا تھا . ہم تینوں اس وقت ایک الگ ہی دنیا میں تھے . میرے کمرے کے تین مختلف کونوں میں تین جوانیاں مزے لوٹ رہی تھیں .فرزانہ باجی اچانک کیا سوجھا کے انھوں نے اپنی نائٹی کے اوپر سے ہی اپنے ممے کو برا سر بھر نکالا اور اپنے نپل کو دبانے لگیں .
یہ منظر مرے لئے نا قبل فراموش تھا . چھتیس کے گورے چٹے ممے اور ان سے جھانکتے ہوۓ فرزانہ باجی کے گلابی نیپل غضب ڈھا رہے تھے .
ان کے نیپل فل ہارڈ تھے . جنہیں وہ بڑی بے دردی سے مسل رہی تھی .
میں اپنی منزل کے عروج پہ تھا شاید یہی حال باقی دونوں کے ساتھ بھی تھا .
بول زاہد چودے گا مجہے . چودے گا اپنی باجی کو .
ہاں باجی میں تمہیں گھوڑی بنا کے چودوں گا .
میرے منہ سے نکلنے والے الفاظوں کا اثر دونوں پر پڑا اور پھر مری آنکھوں نے عجیب منظر دیکھا کے . فرزانہ باجی کے سانس تیز تیز چلنے لگی . انھوں نے مزے کی شدت سے اپنی آنکھیں بند کر لیں .
تھوڑی دیر بعد انکے جسم نے جھٹکے کھانے شروع کر دیے وہ بیڈ پر وہیں لیٹ گئی انکے منہ سے آہیں نکل رہی تھی . شاید وہ فارغ ہو رہی تھی . انکی اس حالت کو دیکھتے ہوۓ میرے منہ سے ایک بڑی سی آہ نکلی اور یک دم میرے لن نے جھٹکا کھایا اور منی کے قطرے سامنے بیٹھی ریحانہ کی ٹانگوں پر گرے . میری منی جونہی ریحانہ کی ٹانگوں پر گری ریحانہ کے جسم نے بھی جھٹکے لئے اور اس نے مزے سے اپنی آنکھیں بند کر لی .
کمرے میں آنے والا طوفان تھم چکا تھا . اب صرف ہماری سانسوں کی آوازیں باقی تھی . مجھ میں اب کھڑا ہونے کی ہمت نہی تھی . کمزوری کی وجہ سے میں وہیں زمین پر ڈھیر ہو گیا . فرزانہ اور ریحانہ باجی سے اپنے کپڑے درست کیے اور کہا میرا خیال ہے اسکے لئے اتنا ہی سبق کافی ہے . چلو ریحانہ چلیں .
یہ کہتے ہوۓ وہ دونوں روانہ ہو گیں . انکے جانے کے بعد میں نے ہمت کی اور جلدی سے دروازہ بند کیا . اور خود کو صاف کرنے کیے بعد بستر پر گر گیا . یہ وہی بستر تھا جس پر کچھ دیر پہلے میری بہن اپنے مموں سے کھیل رہی تھی .
صبح آنکھ کھلی تو سمجھ نہی آیا میں کہاں ہو . پھر جیسے ایک دم ریل سی چلی دماغ میں . اور کل کے واقعات دماغ میں ایک فلم کی طرح چلنے لگے. کل جو کچھ ہوا تھا وہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا .
جب سے میں لاہور آیا تھا میں نے صرف ریحانہ باجی کو ہی سوچا تھا . اور کل جس طرح انھوں نے اپنا بھرم قائم رکھا تھا وہ مجہے بہت اچھا لگا تھا . جبکہ فرزانہ باجی کے انداز سے لگتا تھا جیسے وہ سیکس کے بارے میں سب جانتی ہوں.
میرا ڈر ابھی تک قائم تھا . اگر وہ کچھ بھی اپنے گھر والوں کو بتا دیتی تو میں ضرور اس نوکری اور گھر سے فارغ ہو جاتا .
میں اٹھا اور نہا کر فیکٹری چلا گیا . شام کو واپسی پر کھانے کی میز پر فرزانہ اور ریحانہ باجی سے ملاقات ہوئی . فرزانہ باجی ہمیشہ کی طرح خشک مزاج ہی ثابت ہو رہی تھی . جبکے ریحانہ باجی نے مجھ سے آنکھ ملانے کی ہمت نہی کی
مجہے لگا جیسے وہ مجھ سے شرمندہ ہوں .
مگر وہ مجھ سے شرمندہ کیوں ہوتی شرمندہ تو میں تھا . میں نے حرکت ہی ایسی کی تھی . اس بیچاری نے نجانے کیا سوچا ہوگا .
مگر اس سارے کھیل میں اگر کوئی فائدے میں رہا تھا تو وہ فرزانہ باجی تھی .
میرے ذہن سے ابھی تک یہ بات نہی نکل پا رہی تھی کے فرزانہ باجی اس معامله میں اتنی تجربہ کار کیسے ہیں . خیر وقت کے ساتھ ساتھ یہ گھتی بھی کھل ہی جاتی . ہم سب نے جلدی جلدی کھانا ختم کیا . اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے . میری جسمانی حالت کوئی اتنی اچھی نہی تھی . میں پچھلی پوری رات سکون سے ںہی سو پایا تھا جبکے سارا دن ڈر کے مارے پریشان رہا تھا . میرا خیال تھا کے معامله حل ہو چکا ہے اور اب سکون کا سانس لے سکتا ہو . میرے بیڈ پر گرتے ہی کچھ دیر میں میری آنکھ لگ چکی تھی . تقریباً رات ایک بجے میرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا . دوسری یا تیسری دستک پہ میں نے دروازہ کھولا تو فرزانہ باجی کھڑی تھی . انھیں دیکھتے ہی میری نیند اڑ گئی میں نے ڈرتے ہووے پوچھا :
جی فرزانہ باجی . انھوں نے مجہے ہاتھ سے دھکیلتے ہووے کہا کہ کیا باہر ہی بات کرنے کا ارادہ ہے اور اندر آ گئیں .
اندر داخل ہونے کے بعد انھوں نے نیا حکم جاری کیا کے دروازہ بند کر دو اور سکون سے بیڈ پر بیٹھ گئیں. میں نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ بند کر دیا میرا دل ڈر رہا تھا کے آج پھر میری عزت کی دھجیاں نہ بکھیری جائیں . میرا جرم اتنا شدید تو ںہی تھا کے ایسے سزا دی جائے . اور پھر میں تو شرمندہ تھا اپنی حرکت پہ اور معافی کا طلب گار تھا مگر لگتا تھا کے میں کمبل کو چھوڑنا چاہتا ہو مگر کمبل مجہے چھوڑنے پر راضی ںہی ہے . اپنی بے بسی پر میری آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے. جب میں مڑا تو میرے چہرے کی طرف دیکھ کر فرزانہ باجی حیران رہ گئی .
میں نے روتے ہوۓ ان سے التجا کی کے باجی میرا قصور اتنا بھی ںہی تھا کہ اتنی سزا ملتی پلیز مجہے معاف کر دیں .
باجی کی آنکھوں سے لگا جیسے انھیں مجھ پے ترس آگیا ہو. مگر پھر اچانک ان کے اندر کا شیطان جاگا اور انھوں نے گرج کے کہا .
ابے گدھے اٹھ اور مرد بن کیا لڑکیوں کی طرح ٹسوے بہاتا ہے .
جب تو اپنی بہنوں کو ننگا دیکھنے چلا تھا تب علم ںہی تھا کے پکڑا گیا تو کیا ہوگا . اگر ٹٹوں میں اتنا پانی ںہی تھا تو ایسی حرکت کی ہی کیوں تھی .
فرزانہ باجی کے منہ سے ٹٹوں کا لفظ سن کر مجہے کرنٹ لگا اور میری حیرت کی کتاب میں ایک اور باب کا اضافہ ہو گیا .
ابھی میں حیرت کے ہی سمندر میں غوطہ زن تھا کہ باجی نے کہا چل ادھر آ اور کپڑے اتار اپنے . میں اپنی جگہ کھڑا ہی رہ گیا .
تمہیں سنائی ںہی دیا کے میں کیا کہ رہی ہو .
باجی پلیز آج ںہی . میں نے التجائی لہجے میں ان سے کہا .
تو ادھر آئے گا یا میں شور مچاؤ کے تو نے میری عزت لوٹنے کی کوشش کی ہے .
پلیز ایسا نہ کیجیے گا میں آتا ہو .
میری بات سن کے باجی کے لبوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی .
انھوں نے کہا شاباش . چلو اب اپنے کپڑے اتارو . میں نے نفی میں سر ہلایا . شاید یہ پہلا واقعہ تھا جس میں ایک لڑکا اپنی عزت بچانے کے لئے اتنی تگ و دو کر رہا تھا . میرے مسلسل انکار نے باجی کو جھنجھلا دیا . مگر وہ زیادہ سختی ںہی کرنا چاہتی تھی . انہو نے مجہے کہا اچھا پھر ایک کام کرو بیڈ پہ لیٹ تو سکتے ہو نہ بے شک کپڑے نہ اتارو . میں نے نہ سمجھ آنے والے انداز میں کہا
آپ چاہتی کیا ہیں .
انھوں نے کہا تم بتاؤ یہ کام کرتے ہو یا میں شور مچاؤ .
مجہے بظاھر اس کام میں کوئی ایسی بات نظر ںہی آرہی تھی جس سے مجہے کوئی مسلہ ہو لہذا میں اس کام کے لئے راضی ہو گیا . میں بیڈ پر سیدھا لیٹ گیا . فرزانہ باجی نے کہا اب اپنے ہاتھ اپنے سر کے پیچھے لے جاؤ. جو کچھ بھی ہو رہا تھا وہ میری سمجھ سے باہر تھا
خیر میں نے اسی بات میں اپنی خیر سمجھی کے جب تک عزت سلامت ہے میں انکی بات مانتا رہوں . ابھی ہم یہی بات کر رہے تھے کہ اچانک دروازے کے دستک ہوئی . میں چونک کے بیٹھ گیا . فرزانہ باجی نے کہا تم ایسے ہی لیٹے رہو . یہ ریحانہ ہو گی اسے نہ خود چین ہے نہ یہ مجہے لینے دے گی . انھوں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو ریحانہ اندر آگئی . اس نے اندر آ کر مجہے دیکھا تو کہا . فرزانہ باجی آپ کیا چاہتی ہیں . کوئی آگیا تو کتنا بڑا مسلہ کھڑا ہو جائے گا اندازہ ہے آپکو .
فرزانہ باجی نے اسی لہجے میں جواب دیتے ہوۓ کہا . یار کوئی ںہی آنے والا . تم جیسی ڈرپوک لڑکی میں نے ںہی دیکھی . اگر تم یہاں رہنا چاہتی ہو تو چپ کر کے اندر آجاؤ ورنہ اپنا لیکچر ختم کرو اور چلتی نظر آو . ریحانہ کے انداز میں جھجھک تھی مگر وہ جانے کے لئے بھی تیار نہ تھی . کل کا منظر اسکے لئے بھی ہیجان خیز تھا . آج دونوں بہنوں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی . اور گلے میں دوپٹے تھے . دونوں کی چست قمیضوں سے جھلکتی چھاتیاں ایک خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی . مگر اس وقت مجہے صرف اپنی پڑی تھی . ریحانہ نے کوئی جواب نہ دیا تو فرزانہ باجی نے اسے اندر کی طرف دکھیلا اور دروازہ پھر سے بند کر لیا .
اب وہ دونوں میری طرف متوجہ ہوئی .
میں ایک ٹراؤزر پہنے سیدھا لیٹا تھا. ایسے کے میرے ہاتھ میرے سر کے پیچھے تھے جیسے کسی بچے کو اسکے استاد نے سزا کے طور پر ہاتھ اٹھا نے کی سزا دی ہو .
میں اگلے حکم کا منتظر تھا . فرزانہ باجی نے اگلا حکم صادر کرنے میں دیر ںہی لگائی.
تم اپنی آنکھیں بند کر لو اور تب تک نہ کھولنا جب تک میں نہ کہوں
مگر فرزانہ باجی ؟
اگر مگر کچھ ںہی . جو کہا جا رہا ہے وہی کرو
میں نے اپنی آنکھیں بند کر لی . مجہے قدموں کی آہٹ سے اندازہ ہوا کہ فرزانہ باجی میری طرف بڑھ رہی ہیں . پھر مجہے احساس ہوا کے کوئی بیڈ پر چڑھ گیا ہے میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا یہاں تک کے میں اپنے دل کی دھک دھک سن سکتا تھا .
پھر اچانک فرزانہ باجی میرے سینے پہ سوار ہو گئی اور میرے ہاتھ پکڑ لئے . میں نے شور مچانا شروع کیا ہی تھا فرزانہ باجی نے مجہے خبردار کیا کے شور مچانے سے اگر کوئی آگیا تو وہ یہی سمجھے گا کے میں ان کا ریپ کر رہا ہوں . میری آواز اپنے ہی حلق میں دب کے رہ گئی اور مری مزاحمت وہیں دم توڑ گئی . کمرے کا منظر ہی ایسا تھا کے سارے ثبوت میرے ہی خلاف جاتے .
باجی نے حیران ریحانہ کو آواز تھی کے تم یونہی کھڑی رہو گی یا کچھ کام کرنے کا بھی ارادہ ہے . یک دم ریحانہ میں جیسے جان آگئی اس نے پوچھا جی بتائیں.
اپنا دوپٹہ اتارو اور اسکے ہاتھ باندھو .
فرزانہ باجی پلیز میرے ہاتھ نہ باندھیں جو آپ کہیں گی میں کرنے کو تیار ہوں پلیز ایسا نہ کریں .
میں نے تو کوشش کی تھی مگر تم ہی شرافت سے کپڑے اتارنے پر آمادہ ںہی تھے . فرزانہ باجی نے جواب دیا .
ریحانہ باجی انتظار میں تھی کے ہماری بات چیت کے کیا نتیجہ نکلتا ہے . میں نے ابھی کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کے فرزانہ باجی نے ریحانہ کے ڈانٹنے ہوے کہا . تم ہل کیوں ںہی رہی . ریحانہ باجی نے آگے بڑھ کر مرے ہاتھ اپنے دوپٹے سے باندھنا شروع کر دیے . وہ میرے اتنے قریب تھیں کے ان کے جسم کی خوشبو میرے حواس پر طاری ہونے لگی تھی . انکے کھلے گلے سے جھانکتی انکی چھاتیاں میرے سانس الٹ رہی تھیں . انکے جسم کی حرارت سے میں پگھلا جا رہا تھا . جتنی دیر وہ میرے ہاتھ باندھتی رہی میں اتنی دیر سب کچھ بھول کے انکے سراپے میں گم رہا . ریحانہ باجی گھبراہٹ میں کافی ٹائم لگا رہی تھیں . آخر انھوں نے تنگ آکر کہا مجھ سے ںہی باندھے جاتے تم خود باندھ لو .
فرزانہ باجی نے جھنجلا کے کہا یار تم اتنا سا کام ںہی کر سکتی .
ریحانہ باجی نے کہا میں نے کونسا کبھی کسی کے ہاتھ بندھے ہیں جو مجہے تجربہ ہوگا .
اچھا تم ادھر کے بیٹھو اسکے اوپر. میں باندھتی ہو .
میں انکار کرنا چاہتا تھا مگر ریحانہ باجی کی قربت سے انکار ممکن ںہی تھا میں چپ رہا . وہ میرے اوپر آکر بیٹھ گئیں .
انکی نرم گرم گنڈ اب میرے سینے پر تھی . یقین کریں اتنی عجیب حالت کے باوجود میرے لن میں حرکت شروع ہو چکی تھی .
میرے دل میں ایک دم خواہش پیدا ہوئی کے کاش ریحانہ باجی نے کپڑے نہ پہنے ہوتے اور اسی طرح وہ تھوڑا اور قریب ہو کے اپنی چوت مرے منہ پر رکھ دیتی اور میں پاگلوں کی طرح انکی کی چوت کو چوستا .
ریحانہ باجی نے شاید مرے دل خیالات پڑھ لئے تھے اسی لئے وہ ایک دم تھوڑا پیچھے ہٹ کے بیٹھ گئیں .
میں اس وقت فرزانہ باجی کو بلکل فراموش کر چکا تھا جو کے میرے ہاتھ باندھنے میں مصروف تھیں .
اب ریحانہ باجی میرے پیٹ پر بیٹھی تھی . میرے ذہن میں اچانک ایک خیال آیا . میں نے ریحانہ باجی کو کہا کے پلیز پیٹ پر نہ بیٹھیں میں نے کھانا کھایا ہوا ہے .
تھوڑا سا پیچھے ہو جائیں . وہ میری بات سمجھتے ہوۓ تھوڑا پیچھے سرکی تو ایک دم اچھل کے بیڈ سے نیچے اتر گئی . اتنی دیر میں فرزانہ باجی جو کے میرے ہاتھ باندھ چکی تھیں .
انھوں نے حیرانی سے ریحانہ باجی کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا ہوا . تو ریحانہ باجی نے میرے ٹراؤزر کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک ٹینٹ سا تنا ہوا تھا .
وو جب پیچھے ہوئی تو میرے لنڈ پر بیٹھ گئیں تھیں .
فرزانہ باجی کے منہ سے ایک قہقہہ برآمد ہوا .
اور انھوں نے ریحانہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا مزا آیا.
ریحانہ باجی نے شرمندگی سے سر جھکا لیا .
انکا تو پتا ںہی مگر میں مزے سے پاگل ہو گیا تھا جب انکی گانڈ میرے لنڈ پر ٹکی تو ایک کرنٹ سا دوڑ گیا تھا جسم میں .
ریحانہ باجی میری شرارت کو سمجھ گئی تھیں .
انھوں نے عجیب سی نظروں سے مجہے دیکھا .
نہ چاھتے ہوۓ بھی میرے لبوں پہ مسکراہٹ آگئی. انھوں نے شرما کر منہ دوسری طرف پھیر لیا فرزانہ باجی یہ سب ماجرا دیکھ رہی تھیں . انھوں نے میرے تنے ہوۓ ٹرازور پر ہاتھ مرتے ہوۓ کہا . واہ جی واہ آج تو یہ شرافت سے کھڑا ہو گیا ہے .
ورنہ کل تو اسے کھڑا کرنا ہی مسلہ بنا ہوا تھا .
انکے ہاتھ لگاتے ہی میرے لن کی تھوڑی بہت مزاحمت بھی دم توڑ گئی اور اس نے تن کے اپنے ہونے کا ثبوت دیا .
یہ سب ریحانہ باجی کی وجہ سے تھا .
ورنہ فرزانہ باجی سے تو مجہے ڈر ہی اتنا لگتا تھا کے لن کی اتنی جرات کہاں کے ان کے سامنے سینہ تن کے کھڑا رہ سکے .
اب فرزانہ باجی بیڈ پر بیٹھ گئی اور ہاتھ سے میرے میرے تنے ہوۓ لن کی ٹرازور کے اوپر سے ہی ہلکی ہلکی چپت مرنے لگی . میرے لن نے پہلی دفع میرے علاوہ کسی اور کا لمس پایا تھا اسکے لئے یہ سب ناقابل برداشت تھا . وہ ہر لمس پر جھٹکے مارنے لگا .
فرزانہ باجی نے وہیں سے ریحانہ باجی کو آواز لگائی
تم بھی اوپر آجاؤ .
انھوں نے کہا ںہی میں ایسے ہی ٹھیک ہوں . فرزانہ باجی نے کہا یہ تمہیں کھا یے گا ںہی ویسے بھی اسکے ہاتھ بندھے ہوۓ ہیں . ریحانہ باجی نے پھر انکار کیا اور وہیں دور کرسی پے بیٹھ کے فرزانہ باجی کو دکیھتی رہی . میری حالت عجیب سی تھی ایک بہن مرے لنڈ سے کھل رہی تھی جبکے دوسری اس منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی . میں اس سارے منظر میں بے چارہ ہونے کے باوجود خود پر قابو پانے سے قاصر تھا .
تھوڑی دیر فرزانہ باجی میرے لنڈ سے ایسے ہی کھیلتی رہیں . اور اپنے ہونٹوں پے زبان پھیرتی رہیں . انکے انداز سے لگتا تھا جیسے ابھی وہ مرے لنڈ کو منہ میں لے کے چوسنا شروع کر دیں گی .
تھوڑی دیر ایسے ہی تھپڑ مارنے کے بعد انھوں نے میرے لنڈ کو ایک ہاتھ سے پکڑ لیا اور پکڑ کر دبانے شروع کر دیا میرے منہ سے ایک آہ نکلی . جسے فرزانہ اور ریحانہ باجی نے مزے سے سنا .
اسکے بعد وہ اسی طرح بند مٹھی کو اوپر نیچے کرنے لگیں . اب وہ ٹرازور کے اوپر سے ہی میری مٹھ مار رہی تھی . اور میں مزے کی وادیوں میں گم ہوا چلا جا رہا تھا . جو تھوڑی بہت مزاحمت کا امکان تھا بھی تو وہ اب ختم ہو گیا تھا . میں پوری طرح سے مزے لے رہا تھا . فرزانہ باجی کبھی میرے لنڈ کو دباتی کبھی اسے دبوچتی اور کبھی سہلا رہی تھی . مجہے آج تک اپنے ہاتھ سے مٹھ مارنے کا اتنا مزا ںہی آیا تھا .
میرے ٹرازور کا اوپر کا حصہ گیلا ہونا شروع ہو گیا تھا . فرزانہ باجی نے اس گیلے حصے پر انگلی لگائی اور اس کے بعد اس انگلی کو منہ میں لے جا کے چوس لیا میرے لئے یہ منظر قتل کرنے والا تھا . جس طرح انھوں نے انگلی کو چوسا تھا اس سے مجہے اندازہ ہو گیا تھا کے فرزانہ باجی نے یہ تربیت ٹرپل فلموں سے ہی لی ہے.
میرے لنڈ نے مزید جھٹکے لئے اور ٹرازور مزید گیلا ہو گیا . ریحانہ باجی نے فرزانہ باجی سے پوچھا باجی آپ کیا چوس رہی ہیں .
فرزانہ باجی نے کہا اسکی منی .
تم بھی چکھوں مزے دار ہوتی ہے
ریحانہ باجی نے انکار میں سر ہلاتے ہوۓ انکار کر دیا . میں نے کہا پلیز ریحانہ باجی چکھیں تو سہی . میری اس حرکت پر فرزانہ باجی اور ریحانہ باجی دونوں دنگ رہ گئیں . ان دونوں کا تو پتا ںہی مگر میں خود حیران تھا کے یہ اچانک مجہے کیا ہوا اور مجھ میں اتنی ہمت پتا ںہی کہاں سے آگئی کے میں نے یہ بات کہ دی انھیں .
فرزانہ باجی نے مسکراتے ہووے ریحانہ باجی کو اب تو آجاؤ یہ تو عاشق ہو چکا ہے تمہارا . تمہارا نام سنتے ہی اسکا لنڈ سلامی دینے لگتا ہے .
ریحانہ باجی نے شرم سے آنکھیں نیچے کر لیں . مگر اپنی جگہ سے ہلی نہی . فرزانہ باجی نے مجہے کہا یہاں میری تو کوئی بات سنتا ہی نہی نہ تم نہ وہ .
میں نے ڈھیٹ ہو کہ پھر کہا ریحانہ باجی پلیز .
اس دفعہ ریحانہ باجی نے ہمت کی اور بیڈ پر آگئیں .
اب میں درمیان میں لیٹا تھا اور میرے ہاتھ بندھے ہووے تھے جبکے میرے ایک طرف فرزانہ باجی اور دوسری طرف ریحانہ باجی تھی . اور ان دونوں کے درمیان میرا تنا ہوا لن تھا . اور میں مزے کے آسمان پہ تھا .
ریحانہ باجی نے ہمت کی ڈرتے ڈرتے میرے لن کی طرف ہاتھ بڑھایا . فرزانہ باجی نے ٹوکا کے ، لگا لو ہاتھ ڈرو نہی ہاتھ میں لینے سے کچھ نہی ہوتا . ریحانہ باجی نے آخر میرا لنڈ ہاتھ میں لیا اور آرام سے دبایا .
میرے جسم میں تو کرنٹ دوڑ گیا .
شاید یہ انکا بھی پہلا تجربہ تھا لنڈ ہاتھ میں لینے کا . انھوں نے پکڑتے ہی چھوڑ دیا. میرے اندازے کے مطابق انھیں بھی کرنٹ لگا تھا . فرزانہ باجی نے اپنی انگلی میرے ٹرازور کی گیلی جگہ پے پھیری اور اسے ریحانہ باجی کے منہ کی طرف کر دیا . ریحانہ باجی نے ججھکتے ہووے ان کی انگلی کو منہ میں لے لیا . ہر نیا منظر میرے لئے ایک امتحان سے کم نہی تھا . میرے خون کی گردش تھی کے کم ہونے کا نام ہی نہی لے رہی تھی . ریحانہ باجی نے کہا یہ تو نمکین ہے .
میں نے جلدی سے پوچھا پھر آپکو اچھا لگا .
انھوں نے میرا دل توڑنا مناسب نہ سمجھا اور سر ہلا دیا . مگر جب فرزانہ باجی نے انھیں کہا کے اب تم خود کوشش کرو تو انھوں نے انکار کر دیا اور بس لنڈ سے کھیلتی رہیں .
فرزانہ باجی نے زیادہ انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا . اب جبکے کمرے کا ماحول سازگار تھا تو انھوں نے اپنی قمیض اتار دی . کالے برا میں چھتیس کے ممے بھر نکلنے کو تڑپ رہے تھے . میں نے اتنے خوبصورت ممے کہیں نہی دیکھے تھے . گول گول گنبد کی طرح سفید جس کی لال لال چوٹی چوٹی رگیں صاف نظر آرہی تھی . باجی نے برا کا ہک کھول دیا اور پھر یک دم میری آنکھوں کے سامنے دنیا کے خوبصورت ترین ممے لائٹ براؤن نپل کے ساتھ موجود تھے . جو کے پوری طرح تنے ہووے تھے .
فرزانہ باجی میرے سینے پر بیٹھ گئی اور اپنا دایاں نپل میرے منہ میں ڈال دیا .
اور میں بے صبر وں کی طرح انکے مموں کو چوسنے لگا . وہ کیا سین تھا میری زندگی کے حسین لمحات تھے یہ . مجہے بلکل امید نہی تھی کے میری سزا اتنا مزے دار موڑ اختیار کر لے گی . یہ میرا پہلا تجربہ تھا کسی لڑکی کے مموں کو چوسنے کا اور میں جتنا بے صبرا ہو رہا تھا لگتا تھا جیسے میں کچا کھا جاؤں گا . انکا مما اتنا برا تھا کے میرے منہ میں پورا نہی آرہا تھا مگر میں پوری کوشش کر آرہا تھا کے جتنا ہو سکے منہ میں لے لوں . ریحانہ باجی ابھی تک میرے لنڈ سے کھیل رہی تھیں . مگر اب ان کے انداز میں اعتماد تھا . فرزانہ باجی نے میرے منہ سے مما باہر کھینچا . اور پھر دوسرا مما میرے منہ میں ڈال دیا . کمرے میں صرف فرزانہ باجی کی مزے سے بھری آوازیں تھی یا پھر میرے چوسنے کی آوازیں .میرے ہاتھ ابھی تک بندھے ہووے تھے مگر ہاتھوں کا ہوش کیسے ہوتا .
کتنی دیر بعد کسی نے میرے مموں کو اس طرح چوسا ہے . فرزانہ باجی نے یہ کہتے ہووے مما میرے منہ سے نکالا اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھ دیا . مجہے نہی پتا تھا ہونٹوں کو چوسنے کا مزہ تو شاید مموں کو چوسنے سے بھی زیادہ تھا . اور پھر میٹھے اور رسیلے ہونٹ جنھیں چھوڑنے کو دل نہ کرے. مجہے سمجھ نہی آرہا تھا کے کس کم میں زیادہ مزہ کس کرنے میں یا مموں کو چوسنے میں . اب ہم دونوں پاگلوں کی طرح کس کر رہے تھے کبھی فرزانہ باجی کی زبان میرے منہ ہوتی اور میں چوستا اور کبھی میرے زبان انکے منہ میں . ریحانہ باجی اب اٹھ کے میرے سرہانے آگئی تھیں . اور وہ حیرت سے ہمارا دیوانہ پن دیکھ رہیں تھی .
تقریباً پانچ منٹ تک ہم دونوں کس کرتے رہے پھر اچانک ہمیں ریحانہ باجی کا احساس ہوا تو فرزانہ باجی نے ریحانہ کی طرف دیکھتے ہووے پوچھا تم ٹرائی کرنا چاہو گی .
ریحانہ باجی نے کوئی جواب نہی دیا . فرزانہ باجی میرے سینے سے اتر گئیں اور یک دم ریحانہ کو سر کے بلوں سے پکڑ کے انکا منہ مرے منہ سے جوڑ دیا . میں تو شاید موقعہ کی تلاش میں تھا میں نے جلدی سے انکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے جکڑ لیا شروع میں تو انہووں نے مزاحمت کی مگر فرزانہ باجی نے انکا سر نہی چوڑا تھوڑی دیر بعد جب انھیں یقین ہو گیا کہ میں اپنا کم کر چکا ہونگا تو انھوں نے ہاتھ ہٹا لیا مگر تب تک ریحانہ باجی کی آنکھیں مزے کی شدت سے بند ہو چکی تھی . اور میں پھر جنوں کی حد تک انکے ہوننٹوں کو چوسنے لگ گیا . میری دیوانگی کا عالم یہ تھا کے مجہے ڈر تھا جیسے میں ریحانہ باجی کے ہونٹ کاٹ ہی نہ لوں . پھر اسی طرح میں نے اپنی زبان انکے منہ میں دھکیلی .
ریحانہ باجی نے تھوڑا ججھکتے ہووے چوسنا شروع کر دیا . پھر ایک دم انکے کے انداز میں تیزی آگئی.
فرزانہ باجی میری ٹانگوں کی طرف بڑھیں اور میرا ٹروزار پکڑ کر کھینچ دیا . میرا آٹھ انچ کا لنڈ جو کے ٹوپی کے پاس سے گیلا ہو چکا تھا انکے سامنے تنا ہوا کھڑا تھا . اسے دیکھتے ہی فرزانہ باجی کی آنکھوں میں روشنی آگئی . انھوں نے ہاتھ بڑھایا اور تھوڑی دیر بعد میرا لنڈ انکے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا . میں اپنے لنڈ پے فرزانہ باجی کا لمس محسوس کرتے ہی مزے کے ساتویں آسمان پر پہنچ چکا تھا . ریحانہ باجی اب میرے ہونٹوں کو چوس رہی تھیں اور فرزانہ باجی نے میرے لنڈ سے اپنے نپل کو رگڑنا شروع کر دیا تھا .میری گیلی ٹوپی پر لگی منی اب انکے نپلز پر لگ رہی تھی . فرزانہ باجی نے اور غضب ڈھایا اور میرے لنڈ کو اپنے دونوں مموں کے درمیان رکھ کر رگڑنا شروع کر دیا . میرے لئے یہ سب ناقابل برداشت تھا . اتنا قرب اتنا مزہ میں اکھڑ کتنا برداشت کرتا . میرے جسم جھٹکے کھانے لگا میں فرزانہ باجی کو روکنا چاہتا تھا کے میں چھوٹنے والا ہوں مگر میرے ہونٹوں کو تو ریحانہ باجی نے جکڑا ہوا تھا . پھر اچانک میرے لنڈ سے اکڑ کے ایک انگڑائی لی اور منی کی ایک تیز دھار فرزانہ باجی کے منہ پر پڑی .اور پھر چند جھٹکوں کے ساتھ ہی میں نے انکے چہرے گردن اور مموں کو منی سے بھر دیا .
میرا جسم یک دم ڈھیلا پر گیا . فرزانہ باجی کی تو جیسے چاندی ہو گئی انھوں نے جلدی جلدی ساری منی چاٹنی شروع کر دی . وہ اتنے سکون سے یہ سب کر رہی تھیں کے میں اور ریحانہ باجی ایک ٹک انھیں ہی دیکھ رہے تھے . مگر انھوں نے ذرا پرواہ نہی کی اور ایک ایک قطرہ جو ان کے چہرے پر یا چھاتی پر گرا تھا سب چاٹ لیا . جب وہ اس کم سے فارغ ہوئی تو انھوں نے کہا یار مزہ آگیا تمہارا رس تو بہت مزے دار تھا . اتنی دیر میں انکی نظر میرے لنڈ پر پڑی جو کے آہستہ آہستہ چھوٹا ہوتا جا رہا تھا .
مگر چند قطرے اس پر ابھی تک موجود تھے . انھوں نے جلدی سے میرے لنڈ کو پکڑا اور منہ میں ڈال لیا . اور چوسنے لگیں .
میرے مزے کے گرتے ہووےگراف کو وہیں بریک لگ گئی . ابھی میری حیرتوں میں کمی نہ ہوئی تھی کے مجہے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا . فرزانہ باجی اس طرح مرے لنڈ کو چوس رہیں تھی جیسے آئس کریم کو چوستے ہیں . وہ میرے لنڈ پر لگے ہر قطرے کو صاف کر گئیں . میں اور ریحانہ انہی کی طرف دیکھ رہے تھے . میں نے ریحانہ باجی کو کہا پلیز مجہے کھول دیں تو انھوں نے فرزانہ باجی کی طرف اشارہ کیا . میں نے کہا میرا یقین کریں میں کچھ نہی کروں گا . ریحانہ باجی کو شاید مجھ پر ترس اگیا اور انھوں نے آگے بڑھ کر مجہے کھولنا شروع کر دیا .
آہ پھر وہی مزہ . وہی خوشبو وہی گرمائش جو میں پھلے بھی ایک بار محسوس کر چکا تھا جب وہ شروع میں مجہے باندھنے کی کوشش کر چکی تھیں . اور اب تو یہ مزہ اس وجہ سے بھی دوبالا ہو چکا تھا کے میرا لنڈ اس وقت فرزانہ باجی کے منہ میں تھا اور میں خود ریحانہ باجی کے جسم کے نشیب و فراز ناپ رہا تھا . تھوڑی دیر بعد میرے ہاتھ کھل گئے . میرے ہاتھ کھلتے ہی میں نے ریحانہ باجی کے چہرے کو دونوں ہاتھ سے پکڑا اور ایک بار پھر انھیں اپنے اوپر گھسیٹ لیا . اب میں دیوانوں کی طرح انکے ہونٹوں کو چوس رہا تھا.
چوستے چوستے میں نے غیر محسوس انداز میں اپنا دوسرا ہاتھ ریحانہ باجی کی چھاتی کی طرف بڑھایا . اور کپڑوں کے اوپر سے
Wednesday, 28 November 2012
ایک کال کے لڑکے کے ساتھ پیچھے جب شوہر دور ہے
میرا نام سیما، 26 سال کی
عمر ہے اور میں ایک گھر کی بیوی ہوں. میں زمین کے لئے شادی کر رہا ہوں. ہم
نے حیدرآباد میں رہتے ہیں. انہوں نے ایک کال سینٹر کے ایگزیکٹو کے طور پر
کام کر رہا ہے اور وہ زیادہ تر رات شفٹوں میں ہیں. ہم زیادہ تر صبح میں
ہماری کیا سیشن ہے. کچھ دنوں کے لئے سب کچھ ٹھیک تھا اور ہم نے ہماری جنسی
زندگی کا لطف لیا ؤرجاوان، لیکن کچھ وقت کے بعد وہ اس کے اوقات کار تبدیل
کر دیا گیا اور وہ جنسی میں میں ان کے کھو. میں شدت کے جنسی مطلوب تھا لیکن
وہ اسے اس کے کام کے دباؤ کا انکار کیا گیا تھا. پھر میں نے بھی اسے اپنا
کام کرنے کے لئے چھوڑ دیا اور میں نے اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے
لئے دوسرے راستہ کو تلاش کرنے کے کا فیصلہ کیا ہے. میرے جسم کی ساخت میں آ
رہا ہوں، میرے دائرہ 38-28-34 ہیں. میرے شوہر نے مجھ سے صرف میری بڑی چھاتی
کے لئے شادی کر لی.میں جنسی کے دوسرے راستے کے لئے تلاش کیا گیا تھا اور
میں بمشکل ہی کسی بھی شناخت ای میل ملی یا نہیں ہے. پھر میں نے ایک ویب
سائٹ میں ایک کی شناخت کو دیکھا اور مجھے یہ پسند ہے. میں نے ای میل اسے ان
کی تفصیلات کے لئے میں پوچھ رہی ہے. لیکن وہاں تقریبا 8 دنوں کے لئے کوئی
جواب نہیں تھا اور میں نے اس کے لیے انتظار کیا. ایک میل آخر میں میرے پاس
آیا کہ اس کا نام جان * تھا اور اس نے ایک کال لڑکا تھا. میں نے اس کا نمبر
لیا اور کہا جاتا ہے اس کی. انہوں نے اٹھایا اور کہا کہ “یہ کون ہے؟” اور
میں نے جواب دیا کہ میرا نام سیما ہے اور میں نے ایک رات کے لئے ان کی
خدمات کو چاہتا تھا اور انہوں نے جواب دیا کہ وہ اتوار کے روز آنے والے اور
وہ میرے گھر میں آ رہا ہے پر آزاد ہے، میں نے اس کو میرا پتہ اور رابطہ
نمبر دے دیا، اس نے کہا جی ہاں اور ختم فون کریں. میں بہت خوش ہے اور صرف
ایک بات کہ اس کا تعلق مجھ سے ہوں کہ کس طرح میں نے اتوار کو میرے شوہر کو
باہر بھیج دیں چاہئے تھا! آخر میں اتوار کے روز آئے اور میرے شوہر ان کی
کالج کے دوستوں کے ایک پنرملن تقریب کے لئے تیار ہو رہی تھی اور انہوں نے
کہا کہ وہ دیر رات کو آ رہے ہوں گے اور انہوں نے کہا کہ انتظار نہیں کرتے.
مجھے میرے کان اور قسمت پر یقین نہیں کر سکتی. میں نے خوشی سے آخری وہ دور منتقل کر دیا کود کے بارے میں تھا. 10 تیز گھڑی میں میں نے دروازہ کی گھنٹی بج رہا سنا، میں اٹھی اور دروازہ کھولا. میں نے دیکھا ایک خوبصورت نوجوان میرے سامنے کھڑا تھا. اس نے اپنے آپ کو جان کے طور پر متعارف کرایا، اور میں اپنے آپ کو متعارف کروایا ہے اور ہم دونوں ہال کے اندر چلا گیا اور ایک سوفی پر بیٹھے. مجھے پیشکش کی کہ اس کے پینے اور سگریٹ نوشی لیکن انہوں نے کہا کہ کہ وہ انہیں پسند نہیں کیا انکار کر دیا. پھر میں نے آہستہ آہستہ اسے اپنے تمام تحقیقات میں بتایا اور اس نے مجھے ایک سیکسی انداز میں سکون اور کچھ وقت کے بعد میں ایک گلابی رنگ اور شفاف رات میں تبدیل کر دیا گیا، اور میں نے اسے ایک ٹی شرٹ اور باکسر کو پہننے کو دیا. اس کا جسم اتھلیٹک اور بہت اچھا تھا. پھر ہم نے بیڈ روم میں ریٹائر. میں اتنا نروس تھا.
انہوں نے سب سے پہلے مجھ سے میرے ہونٹوں پر چوما اور شروع کر دیا اس کے انگلیوں کے ساتھ میرے پیٹ اور ناف پرواہ ہے. مجھے بہت گرمی لگ گیا تھا اور پھر انہوں نے میری بڑی سینوں میں منتقل کر دیا گیا اور انہیں دبانے شروع. ہم چوببن توڑ دیا اور وہ میرے کان کہ آپ کو جنگلی جنسی پسند کرتے ہو میں آہستہ آہستہ نے کہا کہ؟ ‘اور میں نے کہا جی ہاں. پھر اس نے میری پتلی رات کو نوچنا شروع کیا اور میں نے صرف میری چولی اور جاںگھیا میں چھوڑ دیا گیا تھا. انہوں نے پر چولی کے ساتھ میری چھاتی چوس اور چولی اس کے تھوک کے ساتھ گیلے تھا.میں نے آہستہ آہستہ کراہ. ان کی تھوک کی رطوبت میری چھاتی کو چھو گیا تھا اور وہ ایک ہی بار میں میری چولی سے میری چھاتی کو آزاد کرا لیا. نے ان کی جگہ میں دنگ رہ گئے اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیوں اور انہوں نے کہا کہ وہ اس کی زندگی میں اس طرح کے بھاری چھاتی کبھی نہیں دیکھا اور میں شرم محسوس طور پر انہوں نے کہا کہ کیا گیا تھا.
انہوں نے اس کے ہاتھ میں میری چھاتی کے ایک لیا اور آہستہ آہستہ ان کو اس کے منہ میں ڈال دیا اور جس طرح سے انہوں نے چوسا برقی لہر کے ساتھ میرے جسم سے گزر رہا ہے مجھے پاگل بنا دیا ہے. انہوں نے تیسا کو تیسا منتقل کر دیا گیا اور انہیں ایک سیکسی طریقے سے اور ایک منصوبہ بندی کے طریقے میں چوسا. اس کے بعد انہوں نے مجھے بستر پر پرکشیپک اور میرے جاںگھیا پر منتقل کر دیا. انہوں نے سب سے پہلے جاںگھیا چاٹ لیا تھا اور آہستہ آہستہ اس نے اپنے دانتوں کے ساتھ جاںگھیا ہٹا دیا. وہ میری بلی میں اس کی جیب ڈالا اور میں حتمی خوشی کے ساتھ ہلا کر رکھ دیا. وہ زبان گھنٹہ 1/2 کے لئے میرے گڑبڑ ہے. میں پاگل لڑکی کی طرح چللا رہا تھا. میں نے کہا ‘اوہ، تم آدمی چلو میرے مانس یہ چوستے ہیں، نوچنا، اسے چیر ”
اس کے بعد انہوں نے ان کے باکسر اور اس وقت یہ میری باری حیران کرنے کے لیے تھا ہٹا دیا. اس کا مرگا تقریبا 9 “لمبی اور 3″ وسیع تھا. اس نے مجھے اس کا مرگا چوستے کرنے کا حکم دیا ہے اور میں آہستہ آہستہ ان مرگا میرے منہ میں لیا اور چوسنے کی عادت شروع کر دیا ہے. انہوں نے کراہ طرح مکمل کرنے کے لئے میری ڈک چوستے گیا تھا. میں کیا گیا تھا ان کے الفاظ پر پیدا ہو رہی ہے. انہوں نے کہا کہ وہ کم تھا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس کی سہ کہاں چھوڑنے اور میں نے ابھی ابھی میری چھاتی دکھائی اور وہ خوشی سے میری چھاتی پر کر دیا ‘مجھے سونے اور میری بڑی چھاتی کے درمیان ان کی لمبی ڈک رکھنے کے ساتھ مجھ پر بیٹھ سہ اور تیسا آخر کا آغاز مجھے. میں نے 9 بادل پر تھا کیونکہ یہ میرا پہلا سیشن تیسا کیا تھا. کے بعد جبکہ ان ڈک پھر کھڑے ہوئے اور اس وقت میں حقیقی آخر کے لئے تیار تھا. انہوں نے میرے پیروں سے روانہ کیا اور آہستہ آہستہ میری بلی میں ان راکشس میں داخل کیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک گرم چھڑی مجھے پیچھے تھا.
انہوں نے سست لمحات بنایا اور وہ اس کی رفتار آہستہ آہستہ اضافہ ہوا ہے میں یہ الفاظ کے ساتھ چللا رہا تھا اور وہ چوٹی پر اس کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے. اس کے بعد انہوں نے پوزیشن تبدیل کر دیا گیا. وہ بستر پر مقرر کیا اور مجھے اس کی ڈک پر بیٹھ اور میں کود اور پمپنگ ایک پاگلوں کی طرح، میری بڑی چھاتی ایک سراسر قوت کے ساتھ کود رہے تھے اور انہوں نے میری چھاتی کو پکڑا اور انہیں دبانے اور مساج شروع کی اور میں آہستہ آہستہ میری خود زوال بنا دیا اور میری چھاتی اس کے چہرے کے سامنے میں تھے، وہ انہیں چوس کرنا شروع کر دیا اور میں کود گیا تھا. آخر کا 1/2 گھنٹے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ کم تھا اور اس نے ان کے ڈک لیا اور میری چھاتی پر اس کی سہ چھڑکیں. اس طرح، میں نے جان کے ساتھ ایک عظیم تجربہ تھا اور ہم اس دن کے لئے تقریبا 12 مرتبہ گڑبڑ اور میں 6 بار رات کا کھانا مکمل طور پر تیار سہ کے طور پر وہ میری بلی کھا نیچے گیا تھا اور ہم دونوں کو پورے دن کے لئے ننگے تھے اور بہت مزہ آیا
مجھے میرے کان اور قسمت پر یقین نہیں کر سکتی. میں نے خوشی سے آخری وہ دور منتقل کر دیا کود کے بارے میں تھا. 10 تیز گھڑی میں میں نے دروازہ کی گھنٹی بج رہا سنا، میں اٹھی اور دروازہ کھولا. میں نے دیکھا ایک خوبصورت نوجوان میرے سامنے کھڑا تھا. اس نے اپنے آپ کو جان کے طور پر متعارف کرایا، اور میں اپنے آپ کو متعارف کروایا ہے اور ہم دونوں ہال کے اندر چلا گیا اور ایک سوفی پر بیٹھے. مجھے پیشکش کی کہ اس کے پینے اور سگریٹ نوشی لیکن انہوں نے کہا کہ کہ وہ انہیں پسند نہیں کیا انکار کر دیا. پھر میں نے آہستہ آہستہ اسے اپنے تمام تحقیقات میں بتایا اور اس نے مجھے ایک سیکسی انداز میں سکون اور کچھ وقت کے بعد میں ایک گلابی رنگ اور شفاف رات میں تبدیل کر دیا گیا، اور میں نے اسے ایک ٹی شرٹ اور باکسر کو پہننے کو دیا. اس کا جسم اتھلیٹک اور بہت اچھا تھا. پھر ہم نے بیڈ روم میں ریٹائر. میں اتنا نروس تھا.
انہوں نے سب سے پہلے مجھ سے میرے ہونٹوں پر چوما اور شروع کر دیا اس کے انگلیوں کے ساتھ میرے پیٹ اور ناف پرواہ ہے. مجھے بہت گرمی لگ گیا تھا اور پھر انہوں نے میری بڑی سینوں میں منتقل کر دیا گیا اور انہیں دبانے شروع. ہم چوببن توڑ دیا اور وہ میرے کان کہ آپ کو جنگلی جنسی پسند کرتے ہو میں آہستہ آہستہ نے کہا کہ؟ ‘اور میں نے کہا جی ہاں. پھر اس نے میری پتلی رات کو نوچنا شروع کیا اور میں نے صرف میری چولی اور جاںگھیا میں چھوڑ دیا گیا تھا. انہوں نے پر چولی کے ساتھ میری چھاتی چوس اور چولی اس کے تھوک کے ساتھ گیلے تھا.میں نے آہستہ آہستہ کراہ. ان کی تھوک کی رطوبت میری چھاتی کو چھو گیا تھا اور وہ ایک ہی بار میں میری چولی سے میری چھاتی کو آزاد کرا لیا. نے ان کی جگہ میں دنگ رہ گئے اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیوں اور انہوں نے کہا کہ وہ اس کی زندگی میں اس طرح کے بھاری چھاتی کبھی نہیں دیکھا اور میں شرم محسوس طور پر انہوں نے کہا کہ کیا گیا تھا.
انہوں نے اس کے ہاتھ میں میری چھاتی کے ایک لیا اور آہستہ آہستہ ان کو اس کے منہ میں ڈال دیا اور جس طرح سے انہوں نے چوسا برقی لہر کے ساتھ میرے جسم سے گزر رہا ہے مجھے پاگل بنا دیا ہے. انہوں نے تیسا کو تیسا منتقل کر دیا گیا اور انہیں ایک سیکسی طریقے سے اور ایک منصوبہ بندی کے طریقے میں چوسا. اس کے بعد انہوں نے مجھے بستر پر پرکشیپک اور میرے جاںگھیا پر منتقل کر دیا. انہوں نے سب سے پہلے جاںگھیا چاٹ لیا تھا اور آہستہ آہستہ اس نے اپنے دانتوں کے ساتھ جاںگھیا ہٹا دیا. وہ میری بلی میں اس کی جیب ڈالا اور میں حتمی خوشی کے ساتھ ہلا کر رکھ دیا. وہ زبان گھنٹہ 1/2 کے لئے میرے گڑبڑ ہے. میں پاگل لڑکی کی طرح چللا رہا تھا. میں نے کہا ‘اوہ، تم آدمی چلو میرے مانس یہ چوستے ہیں، نوچنا، اسے چیر ”
اس کے بعد انہوں نے ان کے باکسر اور اس وقت یہ میری باری حیران کرنے کے لیے تھا ہٹا دیا. اس کا مرگا تقریبا 9 “لمبی اور 3″ وسیع تھا. اس نے مجھے اس کا مرگا چوستے کرنے کا حکم دیا ہے اور میں آہستہ آہستہ ان مرگا میرے منہ میں لیا اور چوسنے کی عادت شروع کر دیا ہے. انہوں نے کراہ طرح مکمل کرنے کے لئے میری ڈک چوستے گیا تھا. میں کیا گیا تھا ان کے الفاظ پر پیدا ہو رہی ہے. انہوں نے کہا کہ وہ کم تھا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس کی سہ کہاں چھوڑنے اور میں نے ابھی ابھی میری چھاتی دکھائی اور وہ خوشی سے میری چھاتی پر کر دیا ‘مجھے سونے اور میری بڑی چھاتی کے درمیان ان کی لمبی ڈک رکھنے کے ساتھ مجھ پر بیٹھ سہ اور تیسا آخر کا آغاز مجھے. میں نے 9 بادل پر تھا کیونکہ یہ میرا پہلا سیشن تیسا کیا تھا. کے بعد جبکہ ان ڈک پھر کھڑے ہوئے اور اس وقت میں حقیقی آخر کے لئے تیار تھا. انہوں نے میرے پیروں سے روانہ کیا اور آہستہ آہستہ میری بلی میں ان راکشس میں داخل کیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک گرم چھڑی مجھے پیچھے تھا.
انہوں نے سست لمحات بنایا اور وہ اس کی رفتار آہستہ آہستہ اضافہ ہوا ہے میں یہ الفاظ کے ساتھ چللا رہا تھا اور وہ چوٹی پر اس کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے. اس کے بعد انہوں نے پوزیشن تبدیل کر دیا گیا. وہ بستر پر مقرر کیا اور مجھے اس کی ڈک پر بیٹھ اور میں کود اور پمپنگ ایک پاگلوں کی طرح، میری بڑی چھاتی ایک سراسر قوت کے ساتھ کود رہے تھے اور انہوں نے میری چھاتی کو پکڑا اور انہیں دبانے اور مساج شروع کی اور میں آہستہ آہستہ میری خود زوال بنا دیا اور میری چھاتی اس کے چہرے کے سامنے میں تھے، وہ انہیں چوس کرنا شروع کر دیا اور میں کود گیا تھا. آخر کا 1/2 گھنٹے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ کم تھا اور اس نے ان کے ڈک لیا اور میری چھاتی پر اس کی سہ چھڑکیں. اس طرح، میں نے جان کے ساتھ ایک عظیم تجربہ تھا اور ہم اس دن کے لئے تقریبا 12 مرتبہ گڑبڑ اور میں 6 بار رات کا کھانا مکمل طور پر تیار سہ کے طور پر وہ میری بلی کھا نیچے گیا تھا اور ہم دونوں کو پورے دن کے لئے ننگے تھے اور بہت مزہ آیا
Subscribe to:
Comments (Atom)